مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے تلجلا علاقے میں ایک چمڑے کے کارخانے کو منہدم کیے جانے کی کارروائی پر سیاسی تنازع گہرا ہو گیا ہے۔ انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے مرکزی صدر اور بھانگر سے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے ریاستی حکومت پر “انتقامی سیاست” اور قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
نوشاد صدیقی منگل کے روز تلجلا پہنچے، جہاں حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد متعلقہ کارخانے کو منہدم کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ فیکٹری تقریباً 50 خاندانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ تھی اور اسے مناسب وقت دیے بغیر، قانونی نوٹس اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر کارروائی کی گئی۔
آئی ایس ایف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ جائیداد 1992 میں خریدی گئی تھی اور اس پر باقاعدگی سے کولکاتا میونسپل کارپوریشن کو ٹیکس ادا کیا جا رہا تھا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ فیکٹری کا لائسنس 2029 تک درست تھا، جبکہ فائر سیفٹی سے متعلق کئی دستاویزات بھی موجود تھیں۔ تاہم صرف فائر انشورنس کی تجدید کے سرٹیفکیٹ کی کمی کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے نہ تو سامان نکالنے کا وقت دیا اور نہ ہی قانونی نوٹس پیش کیا۔ اے آئی ایس ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہدام کے دوران بجلی اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کر دی گئی، جس سے آس پاس کے کئی گھر بھی متاثر ہوئے۔
نوشاد صدیقی نے اس کارروائی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی تعمیر کو ہٹانا ضروری ہو تو پہلے مناسب وقت اور متبادل انتظام فراہم کیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے 13 نومبر 2024 کو اپنے رہنما اصولوں میں واضح کیا تھا کہ کسی بھی انہدام سے پہلے نوٹس، سماعت کا موقع اور قانونی عمل کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
آئی ایس ایف نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ کارروائی میں ان ہدایات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ تنظیم نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، بازآبادکاری اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس دوران وکیل بکاش رنجن بھٹاچاریہ سے بھی اس معاملے پر قانونی مشاورت لی گئی ہے اور آئندہ قانونی اقدامات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔