بہار کے نئے وزیرِ تعلیم متھیلیش تیواری کے ایک مبینہ بیان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاست کی سیاست میں نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں وزیر مبینہ طور پر یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ:
“بیٹیوں کو پڑھائی کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ انہیں سڑکوں پر آکر احتجاج نہیں کرنا چاہیے، انہیں حق تو ویسے ہی مل جائے گا۔”
ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں، خواتین تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی تعلیم، خواتین ریزرویشن اور “بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” جیسی مہمات پر بحث جاری ہے۔ ایسے میں وزیرِ تعلیم کے اس مبینہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید مخالفت
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایکس، فیس بک اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں نے وزیر کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی صارفین نے کہا کہ بہار جیسے صوبے میں، جہاں لڑکیوں کی تعلیم اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، وہاں وزیرِ تعلیم سے اس طرح کے بیان کی امید نہیں کی جا سکتی۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور طلبہ تنظیموں نے بھی اس بیان کو “خواتین مخالف” اور “تعلیم مخالف ذہنیت” کی علامت قرار دیا۔ کئی تنظیموں نے وزیر سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپوزیشن نے حکومت کو گھیر لیا
راشٹریہ جنتا دل سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بیان بہار حکومت کی خواتین اور طالبات کے تئیں سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ تعلیم جیسے اہم محکمے کی ذمہ داری سنبھالنے والے وزیر کا ایسا بیان انتہائی افسوسناک ہے۔
بیان پر فیکٹ چیک بھی سامنے آیا
تنازع بڑھنے کے بعد بعض فیکٹ چیک رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وائرل ویڈیو کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیر کا مطلب یہ تھا کہ بیٹیوں کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ حکومت انہیں ان کے حقوق فراہم کرے گی۔ تاہم بیان کے الفاظ اور اندازِ پیشکش کو لے کر تنازع مسلسل جاری ہے۔
بہار میں خواتین کی تعلیم پر نئی بحث
اس تنازع کے بعد بہار میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ریاست میں اب بھی بڑی تعداد میں لڑکیاں ثانوی تعلیم کے بعد پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں معاشی اور سماجی وجوہات کی بنا پر خواتین کی تعلیم ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں وزیرِ تعلیم کا یہ مبینہ بیان مزید حساس مانا جا رہا ہے۔
وزیر پہلے بھی تنازعات میں رہ چکے ہیں
متھیلیش تیواری حال ہی میں بہار کے وزیرِ تعلیم بنے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہی وہ ٹی.آر .ای4 امیدواروں کے احتجاج اور لاٹھی چارج سے متعلق اپنے بیان کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے تھے۔ فی الحال اس معاملے پر سیاست گرم ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ تنازع بہار کی سیاست کا بڑا موضوع بن سکتا ہے۔