جھارکھنڈ کے ضلع صاحب گنج کے بڑہروا میں شیرشاہ آبادی سماج کا احتجاج مسلسل چھٹے دن بھی جاری ہے۔ کھلے آسمان تلے جاری اس دھرنے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہیں، تاہم اب تک نہ کوئی عوامی نمائندہ موقع پر پہنچا ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار افسر۔
مظاہرین شیرشاہ آبادی ذات کے سرٹیفکیٹ کی دوبارہ بحالی کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سماج کا کہنا ہے کہ سال 2012 تک انہیں باقاعدگی سے یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا تھا، مگر بعد ازاں اچانک یہ عمل بند کر دیا گیا۔ جبکہ بہار اور مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں آج بھی شیر شاہ آبادی برادری کو ذات کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
پرانا تنازع، مگر حل اب تک نہیں
مظاہرین کے مطابق یہ مسئلہ نیا نہیں ہے بلکہ 2013 سے مسلسل اس پر جدوجہد جاری ہے۔ 14 دسمبر 2013 کو ضلع کلکٹریٹ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا تھا، تاہم کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔ بعد ازاں کچھ عرصہ تک محدود پیمانے پر سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جو بعد میں مکمل طور پر بند ہو گئے۔
انتظامیہ پر امتیازی سلوک کے الزامات
سماج کا الزام ہے کہ درخواستیں اس بنیاد پر مسترد کر دی جاتی ہیں کہ کھتہان میں “شیر شاہ آبادی” نام درج نہیں ہے، جبکہ ہمسایہ ریاستوں میں اسی نوعیت کی صورتحال کے باوجود سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
ہزاروں نوجوان متاثر
مظاہرین کے مطابق صاحب گنج ضلع میں تقریباً دو لاکھ شیر شاہ آبادی مسلم آبادی رہتی ہے، جن میں 9 سے 10 ہزار افراد ایسے ہیں جو ذات کے سرٹیفکیٹ کے منتظر ہیں۔ سرٹیفکیٹ نہ ملنے کے باعث ہزاروں طلبہ و نوجوان سرکاری اسکیموں، ریزرویشن اور تعلیمی مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔
شناخت اور وجود کی جنگ
دھرنے پر موجود افراد کا کہنا ہے کہ یہ جدوجہد اب صرف ایک کاغذی دستاویز کی نہیں رہی بلکہ شناخت اور وجود کی جنگ بن چکی ہے۔
مظاہرین کے سخت مؤقف
مظاہرین میں شامل امیر حمزہ نے کہا کہ 2014 تک سرٹیفکیٹ جاری ہوتے تھے مگر بعد میں بند کر دیے گئے اور برادری کو “شیخ” قرار دے کر شناخت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ محفوظ عالم نے کہا کہ یہ جدوجہد اب صرف سرٹیفکیٹ کی نہیں بلکہ وجودی سوال بن چکی ہے۔ضیاء الدین نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کے باوجود نہ انتظامیہ اور نہ ہی عوامی نمائندے ان کے پاس پہنچے ہیں۔ وہیں شیرشاہ آبادی ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے رکن مقتدا حسن نے کہا کہ اگر جلد حل نہ نکلا تو تحریک مزید وسیع کی جائے گی۔
چھ روز سے جاری اس احتجاج کے دوران سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا انتظامیہ کوئی فوری اور مؤثر قدم اٹھائے گی یا یہ تحریک مزید شدت اختیار کرے گی؟
ShershabadiSamaj #CasteCertificate #Barharwa #Sahibganj #JharkhandNews #Jharkhand #SocialJustice #IdentityRights #Protest #Dharna #AdministrativeNegligence #EducationRights #StudentIssues #GovernmentScheme #InsaafTimes #BreakingNews #IndiaNews #MinorityRights #DalitAdivasiRights #OBCRights