بہار کے 208 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کی اساتذہ تقرری فہرست سے اردو کو خارج رکھنے پر بڑا تنازع، امارتِ شرعیہ نے وزیراعلیٰ اور وزیر تعلیم کو خط لکھ کر شدید اعتراض ظاہر کیا؛ آئین اور قومی تعلیمی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے اردو کو 17ویں مضمون کے طور پر شامل کرنے کا فوری مطالبہ کیا

بہار میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں جاری تیاریوں کے درمیان اردو مضمون ایک بار پھر بڑے تنازع اور بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ ریاست میں 208 بلاکوں میں قائم ہونے والے نئے سرکاری ڈگری کالجوں کی اساتذہ تقرری فہرست میں اردو کو شامل نہ کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے امارتِ شرعیہ نے بہار حکومت سے فوری نظرثانی اور ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔

امارتِ شرعیہ کی جانب سے جاری بیان میں امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کہا کہ اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے اور آئینِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں بھی شامل ہے، اس لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے ڈھانچے میں اسے نظرانداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔

ادھر امارتِ شرعیہ کے ناظم مفتی سعیدالرحمن قاسمی نے وزیراعلیٰ اور وزیر تعلیم کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے 30 اپریل 2026 کے سرکلر (نمبر 364) پر نظرثانی کی جائے اور اردو کو بطور 17واں مضمون اساتذہ تقرری فہرست میں شامل کیا جائے۔

مساوی مواقع کے حق کا معاملہ

امارتِ شرعیہ نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی خصوصی مراعات کا نہیں بلکہ مساوی مواقع کے بنیادی حق کا ہے۔ تنظیم کے مطابق بہار میں بڑی تعداد میں طلبہ اردو مضمون کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ مستقبل میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تدریسی شعبوں میں جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں نئے کالجوں میں اردو اساتذہ کی عدم دستیابی ان طلبہ کے تعلیمی مواقع محدود کر سکتی ہے، خصوصاً دیہی اور کمزور طبقے کے طلبہ کے لیے۔

آئینی دفعات اور قومی تعلیمی پالیسی کا حوالہ

تنظیم نے اپنے موقف میں آئینِ ہند کی دفعات 14، 15، 29 اور 350A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دفعات مساوات، امتیاز کی ممانعت اور لسانی اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔ ساتھ ہی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ پالیسی کثیر لسانیت اور مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے۔

اردو مشترکہ تہذیبی ورثہ

امارتِ شرعیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت کے مشترکہ تہذیبی، ادبی اور صحافتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ بہار نے اردو ادب، صحافت اور شاعری کو نمایاں شخصیات دی ہیں، لہٰذا اسے اعلیٰ تعلیمی نظام سے الگ کرنا تاریخی و تعلیمی نقصان کے مترادف ہوگا۔

حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ

تنظیم نے حکومتِ بہار سے درج ذیل مطالبات کیے ہیں:

اساتذہ تقرری فہرست کا فوری جائزہ

اردو کو 17ویں مضمون کے طور پر شامل کرنا

ضرورت والے کالجوں میں اردو تدریسی اسامیاں قائم کرنا

نظرثانی شدہ سرکلر جاری کرنا

آئندہ تعلیمی پالیسیوں میں اردو کی مستقل شمولیت کو یقینی بنانا

امارتِ شرعیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے اردو زبان سے وابستہ طلبہ، اساتذہ اور والدین کے خدشات کو دور کرے گی۔