ٹی.آر.ای 4.0 پر پٹنہ میں ہنگامہ: اساتذہ امیدواروں پر لاٹھی چارج سے سیاست گرم، آر.جے.ڈی، بھاکپا مالے، سی.پی.ایم اور ایس.ڈی پی.آئی حکومت پر حملہ آور؛ حزب اقتدار کے اتحادی رہنما چراغ پاسوان نے بھی اٹھائے سوال

بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کی جانب سے اساتذہ بھرتی امتحان ٹی آر ای 4.0 کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیے جانے کے خلاف جمعہ کو راجدھانی پٹنہ میں اساتذہ امیدواروں کا غصہ سڑکوں پر پھوٹ پڑا۔ ڈاک بنگلہ چوراہا اور اطراف کے علاقوں میں ہزاروں امیدواروں نے احتجاج کرتے ہوئے جلد اشتہار جاری کرنے اور عمر کی حد میں رعایت دینے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کے دوران پولیس اور امیدواروں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کرکے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس کارروائی میں کئی طلبہ و طالبات کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد بہار کی سیاست میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور اقتدار و اپوزیشن دونوں جانب سے حکومت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق بڑی تعداد میں امیدوار پُرامن مارچ نکال کر اپنی مانگ حکومت تک پہنچانا چاہتے تھے۔ امیدواروں کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ٹی آر ای 4.0 کے نوٹیفکیشن کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن حکومت اور کمیشن مسلسل تاریخیں بدل کر نوجوانوں کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال رہے ہیں۔

امیدواروں نے الزام لگایا کہ بھرتی کے عمل میں تاخیر کے باعث ہزاروں نوجوانوں کی عمر کی حد ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ معاشی دباؤ اور طویل انتظار نے طلبہ میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔

چراغ پاسوان نے کہا “قابلِ مذمت”

مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان نے اس لاٹھی چارج کو “انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں نوجوانوں کو اپنی جائز مانگ رکھنے کا حق حاصل ہے اور حکومت کو ان کی بات سنجیدگی سے سننی چاہیے۔

چراغ پاسوان نے کہا کہ اساتذہ بھرتی کے منتظر ہزاروں امیدواروں کے مستقبل اور صبر کا احترام کیا جانا چاہیے اور جلد از جلد ٹی آر ای 4.0 کا نوٹیفکیشن جاری ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے امیدواروں سے صبر برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ حال ہی میں کابینہ میں توسیع ہوئی ہے، ایسے میں حکومت مثبت قدم اٹھا سکتی ہے۔

چراغ پاسوان کا یہ بیان اس لیے بھی سیاسی طور پر اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ان کی پارٹی بہار اور مرکز دونوں جگہ این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے۔ ایسے میں اپنی ہی حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھانا سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

آر جے ڈی نے کہا “آمریت کا چہرہ”

راشٹریہ جنتا دل نے لاٹھی چارج کو حکومت کا “آمرانہ چہرہ” قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان چترنجن گگن نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے حکومت اور بی پی ایس سی مسلسل اساتذہ امیدواروں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے بھرتی کا عمل 2024 میں مکمل کرنے کی بات کہی گئی، پھر اگست 2025 اور بعد میں اکتوبر 2025 تک عمل مکمل کرنے کے دعوے کیے گئے۔ انتخابات کے دوران نوجوانوں سے بڑے بڑے وعدے کیے گئے، لیکن اب حکومت اور کمیشن اپنے ہی بیانات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

آر جے ڈی نے کہا کہ بہار کے لاکھوں نوجوان روزگار کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کی بات سننے کے بجائے لاٹھیاں برسا رہی ہے۔ پارٹی نے لاٹھی چارج کا حکم دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سی پی ایم نے کہا “حکومت عوام مخالف ایجنڈا نافذ کر رہی ہے”

سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری للن چودھری اور ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی صدر منوج کمار چندرونشی نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں طلبہ اور خواتین امیدوار پُرامن طریقے سے مارچ نکال رہے تھے، لیکن حکومت نے بات چیت کے بجائے طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا۔

سی پی ایم رہنماؤں نے الزام لگایا کہ سمرت چودھری کی قیادت والی این ڈی اے حکومت “عوام مخالف ایجنڈا” نافذ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں تعلیم اور روزگار کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور بھرتی کمیشن بدعنوانی اور پرچہ لیک جیسے معاملات میں گھرا ہوا ہے۔

پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امیدواروں کے نمائندہ وفد سے بات چیت کرکے ان کے مطالبات پر مناسب فیصلہ لیا جائے۔

بھاکپا مالے کا الزام “جمہوری حقوق پر حملہ”

بھاکپا مالے کے ریاستی سکریٹری کنال نے لاٹھی چارج کو جمہوری حقوق پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مستقبل اور روزگار کے مطالبے کو لے کر پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر پولیس نے جس طرح دوڑا دوڑا کر لاٹھیاں برسائیں، وہ حکومت کی جابرانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مالے نے الزام لگایا کہ کئی امیدواروں کے سر پھٹ گئے اور خواتین امیدواروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ پارٹی نے کہا کہ بہار میں لاکھوں عہدے خالی پڑے ہیں، لیکن حکومت بھرتیاں نکالنے کے بجائے نوجوانوں کی آواز دبانے میں مصروف ہے۔

بھاکپا مالے نے فوری طور پر ٹی آر ای 4.0 کی اسامیوں کا اعلان کرنے، قصوروار افسران کے خلاف کارروائی اور زخمی طلبہ کے علاج کا انتظام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

ایس ڈی پی آئی نے بھی حکومت کو گھیر لیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بہار کے ریاستی صدر ڈاکٹر آفتاب تیمی نے بھی واقعے کی سخت مذمت کی۔

انہوں نے کہا: “بہار کے لاکھوں نوجوان برسوں سے اساتذہ بھرتی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر حکومت روزگار دینے میں ناکام ہے تو کم از کم نوجوانوں کی آواز سننے کا حوصلہ تو دکھائے۔ پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر طاقت کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے سوالات سے خوفزدہ ہے۔ ایس ڈی پی آئی امیدواروں کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر ٹی آر ای 4.0 کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔”

نوجوانوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے

ٹی آر ای 4.0 کو لے کر گزشتہ کئی مہینوں سے بہار میں غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ بی پی ایس سی کے امتحانی کیلنڈر میں واضح معلومات نہ ہونے اور مسلسل بدلتے بیانات نے امیدواروں میں بے چینی اور ناراضگی بڑھا دی ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بے روزگاری اور اساتذہ بھرتی کا مسئلہ آنے والے وقت میں بہار کی سیاست کا بڑا انتخابی مدعا بن سکتا ہے۔ پٹنہ میں ہونے والے لاٹھی چارج نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ کیا بہار میں روزگار مانگنا اب قانون و انتظام کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے؟

TRE4 #BPSC #TeacherRecruitment #PatnaProtest #BiharNews #TRE40 #BPSCStudents #LathiCharge #ChiragPaswan #RJD #CPM #CPIML #SDPI #BiharPolitics #Patna #TeacherVacancy #BPSCExam #InsaafTimes