بہار میں ٹی آر ای ۴٫۰ اساتذہ بھرتی کے نوٹیفکیشن کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرنے والے امیدواروں پر پولیس کارروائی کے بعد سیاسی ردعمل تیز ہو گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) نے لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے بہار حکومت پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان ایڈوکیٹ عادل حسن آزاد نے کہا کہ بہار کے لاکھوں نوجوان کئی برسوں سے اساتذہ بھرتی کے عمل کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن حکومت مسلسل نوٹیفکیشن کو ٹال کر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور حکومت کو طلبہ سے بات چیت کرنی چاہیے تھی، نہ کہ ان پر پولیس طاقت کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں اساتذہ کے لاکھوں عہدے خالی ہیں، اس کے باوجود بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کے بجائے امیدواروں کو مایوس کیا جا رہا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای ۴٫۰ کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے، امیدواروں کو عمر کی حد میں خصوصی رعایت دی جائے، لاٹھی چارج کی اعلیٰ سطحی جانچ ہو اور زخمی طلبہ کو معاوضہ دیا جائے۔
دوسری جانب آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) بہار کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم نے پولیس کارروائی کو “ناانصافی پر مبنی اور شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزگار مانگنے والے نوجوانوں پر لاٹھی چلانا حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اساتذہ بھرتی کا معاملہ نہیں بلکہ غریب، پسماندہ، دلت، اقلیتی اور محنت کش خاندانوں کے خوابوں کا مسئلہ ہے۔
آفتاب عالم نے کہا کہ بہار میں بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن حکومت روزگار پیدا کرنے اور شفاف بھرتی نظام قائم کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کو نوکری دینے کے بجائے احتجاج کرنے پر جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
آزاد سماج پارٹی نے بھی مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای ۴٫۰ کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے، عمر کی حد میں رعایت دی جائے، لاٹھی چارج میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو اور زخمی طلبہ کا مفت علاج اور مناسب معاوضہ دیا جائے۔
دونوں جماعتوں نے کہا کہ وہ طلبہ، نوجوانوں اور بے روزگار امیدواروں کی جمہوری جدوجہد کے ساتھ کھڑی ہیں اور حکومت سے فوری طور پر طلبہ نمائندوں سے مذاکرات کر کے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔