ملک میں مالی شفافیت اور سماجی ہم آہنگی، دونوں محاذوں پر ایک بار پھر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے مرکزی حکومت کے مالیاتی نظم و نسق میں مبینہ خامیوں اور ناسک میں واقع ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) سے جڑے تنازع پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک طرف سرکاری کھاتوں میں ہزاروں کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں مالی جوابدہی پر سوال کھڑے کرتی ہیں، تو دوسری جانب ٹی سی ایس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اور مرکزی حکومت کے کھاتوں کے درمیان سامنے آنے والی 3,880.67 کروڑ روپے کی بے ضابطگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاملہ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (کیگ) کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں مالی سال 2024-25 کے لیے اس بڑی رقم کا حساب اب تک زیرِ التوا بتایا گیا ہے۔
پارٹی کے قومی نائب صدر دہلان باقوی نے اسے محض تکنیکی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مالی نظم و ضبط اور جوابدہی میں سنگین کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق ڈیبٹ اور کریڈٹ بیلنس کو ایڈجسٹ کر کے اصل صورتِ حال کو چھپانے کا رجحان جمہوری مالیاتی نظام کی ساکھ کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ واؤچر پروسیسنگ میں تاخیر، وصولیوں کا نامکمل حساب اور آر بی آئی کے مرکزی اکاؤنٹس سیکشن سے نامکمل معلومات جیسے مسائل طویل عرصے سے جاری ہیں، جو انتظامی ڈھانچے کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایس ڈی پی آئی نے مرکزی حکومت سے اس معاملے پر واضح اور مفصل وضاحت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی تمام زیرِ التوا کھاتوں کا شفاف اور بروقت حساب مکمل کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے جانے والے مالی بیانات کی ساکھ برقرار رہے۔ پارٹی نے پارلیمنٹ سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے اور سرکاری کھاتوں کی سخت نگرانی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
ادھر ناسک میں واقع ٹی سی ایس کے بی پی او یونٹ میں مبینہ جنسی ہراسانی اور مذہبی دباؤ کے الزامات سے جڑے تنازع پر بھی ایس ڈی پی آئی نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ پارٹی کی قومی جنرل سیکریٹری یاسمین فاروقی نے اسے “منصوبہ بند نفرتی مہم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلم نوجوانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ دائیں بازو کے گروہ اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس “لو جہاد” اور “کارپوریٹ جہاد” جیسے بیانیے کو فروغ دے کر ماحول کو دانستہ طور پر خراب کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بجرنگ دل کے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے باعث ایک عام ورک پلیس تنازع کو وسیع فرقہ وارانہ مسئلہ بنا دیا گیا۔
یاسمین فاروقی نے واضح کیا کہ جس خاتون ملازمہ کو اس معاملے کی “ماسٹر مائنڈ” بتایا جا رہا ہے، وہ ٹی سی ایس میں ایچ آر مینیجر نہیں بلکہ ایک پروسیس اسوسی ایٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور متعلقہ ملازمہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس کے باوجود ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف غلط معلومات کا پھیلاؤ جاری ہے، جو تشویشناک ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے اس معاملے میں مبینہ 40 دن کے انڈرکور آپریشن، اچانک گرفتاریوں اور مختلف ایجنسیوں کی سرگرمی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ٹی سی ایس کے اندرونی نظام میں ایسی کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں تھی، جس سے ایف آئی آر کے وقت اور مقصد پر شبہ پیدا ہوتا ہے۔
ساتھ ہی ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پارٹی نے دعویٰ کیا کہ زمینی حقیقت میڈیا میں پیش کی گئی تصویر سے مختلف ہے اور یہ معاملہ منظم جرم کے بجائے ایک عام قانونی تنازع معلوم ہوتا ہے۔
پورے معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ جہاں مالی بے ضابطگیوں پر سخت کارروائی ضروری ہے، وہیں معاشرے میں نفرت پھیلانے والی مہمات کو روکنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پارٹی نے غیر جانبدار اور منصفانہ تحقیقات، گرفتار ملازمین کی فوری رہائی اور جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی تمام سیکولر اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے تفرقہ انگیز اقدامات کو مسترد کریں۔