سرخی:
“بنگال انتخابات سے قبل 91 لاکھ ووٹر فہرست سے خارج؟ ایس ڈی پی آئی نے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا”
نئی دہلی: سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے قومی نائب صدر دہلان باقوی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس عمل کے ذریعے اقلیتوں کو منصوبہ بند طریقے سے ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق، نندی گرام اسمبلی حلقے میں جہاں مسلم کمیونٹی کی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، حذف کیے گئے ووٹروں میں 95.5 فیصد مسلمان ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتخابی عمل میں واضح عدم توازن اور جانبداری کو ظاہر کرتے ہیں۔
پارٹی کے مطابق، پورے ریاست میں تقریباً 91 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثر ضلع مرشد آباد ہے، جو مسلم اکثریتی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اسے جمہوری حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
اس دوران، سپریم کورٹ کی نگرانی میں چل رہے ٹربیونلز نے بھی اس عمل میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ فرکّا سے کانگریس امیدوار مہتاب شیخ کا نام بحال کیا گیا، جب الیکشن کمیشن ان کے نام کو حذف کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہ کر سکا۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اسی عمل کے تحت تقریباً 20 لاکھ ووٹروں کو خارج کر دیا گیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے ان معاملات کی فوری آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے کہا ہے کہ پولنگ سے پہلے تمام اہل ووٹروں کے نام بحال کیے جائیں اور الیکشن کمیشن مکمل شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائے۔
پارٹی نے تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر متحد ہو کر حقِ رائے دہی جیسے آئینی حق کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔