“اسرائیل کے نئے سزائے موت کے قانون کے خلاف بھارت کے انسانی حقوق کے کارکن ایڈوکیٹ انصار اندوری نے اقوام متحدہ کو خط لکھا، فوری مداخلت کا مطالبہ”

انسانی حقوق کے وکیل ایڈوکیٹ انصار اندوری نے اسرائیل کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے نئے سزائے موت (پھانسی) کے قانون کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، جنیوا کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے اس قانون کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ایڈوکیٹ اندوری نے اپنے خط میں کہا ہے کہ یہ نیا قانون عدالتی عمل کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے تحت سزائے موت کے فیصلے کے لیے متفقہ رائے کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس سے سادہ اکثریت کی بنیاد پر پھانسی کی سزا سنانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے عدالتی غلطیوں کے امکانات بڑھ جائیں گے اور بے گناہ افراد کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے۔

خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت اپیل، سزا میں نرمی (تخفیفِ سزا) اور معافی جیسے اہم حقوق کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اس سے خاص طور پر فلسطینی قیدیوں کو منصفانہ عدالتی جائزے اور آزاد نگرانی سے محروم کیے جانے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

ایڈوکیٹ اندوری نے الزام عائد کیا کہ یہ قانون بنیادی طور پر مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بناتا ہے اور اسے جنگی علاقائی عدالتوں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نسلی بنیاد پر امتیاز، غیر مساوی سزا اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

خط میں سزائے موت کو “ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سزا” قرار دیتے ہوئے اس کے کسی خاص برادری کے خلاف ہدف بنا کر استعمال کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

آخر میں انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ اس متنازع قانون کو واپس لے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی پاسداری یقینی بنائے۔

یہ معاملہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی صورتحال اور عدالتی غیر جانبداری کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔