بین الاقوامی کانفرنس میں ہندوستانی سیاست کی گونج: اے.آئی.سی سی کے رکن آنند مادھو نے ورلڈ پولیٹیکل سائنس ایسوسی ایشن کے پینل کی صدارت کرتے ہوئے راہل گاندھی کی مہمات کے مثبت اثرات اور سیاسی نعروں کی طاقت پر مفصل روشنی ڈالی۔

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن آنند مادھو نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی سیاست کے اثرات اور اس کے بدلتے ہوئے رجحانات کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ انہوں نے ورلڈ پولیٹیکل سائنس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں “مہمات اور سیاسی تقاریر پر غور” کے عنوان سے پینل کی صدارت کرتے ہوئے سیاسی مہمات اور نعروں کے وسیع اثرات پر تفصیلی گفتگو کی۔4 اپریل 2026 کو منعقدہ اس پینل میں اپنے خطاب کے دوران آنند مادھو نے کہا کہ سیاسی تقاریر اور مہمات معاشرے پر مثبت اور منفی—دونوں طرح کے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی سیاست کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے نکالی گئی “بھارت جوڑو یاترا”، “بھارت جوڑو نیائے یاترا” اور “ووٹر ادھیکار یاترا” جیسی مہمات نے نہ صرف ملک کی سیاست میں مثبت تبدیلی لائی بلکہ کانگریس پارٹی کو بھی نئی مضبوطی عطا کی۔تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر مہم کا اثر مثبت نہیں ہوتا۔ “چوکیدار چور ہے” جیسے نعرے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا اثر نسبتاً منفی رہا، جس سے سیاسی مباحثے میں تقسیم کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔آنند مادھو نے اپنے خطاب میں یہ بھی اجاگر کیا کہ بعض اوقات حالات کے تحت دیے گئے بیانات بھی دور رس نتائج پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے بہار کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ایک جملے “میرا کسلیہ کہاں ہے” کو اقتدار میں تبدیلی کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ اسی طرح راہل گاندھی کی جانب سے کارکنوں کو دیا گیا “ڈرو مت” کا پیغام بھی تنظیمی سطح پر مؤثر ثابت ہوا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے ہندوستانی سیاست کے مختلف مشہور نعروں اور مہمات—“گھر گھر مودی، ہر گھر مودی”، “بہار میں بہار ہے، نتیشے کمار ہے” اور “پچیس سے تیس، پھر سے نتیش”—کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مہمات اور نعرے عوامی ذہن کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور سیاسی سمت کے تعین میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندوستانی سیاسی مہمات کی اس جامع وضاحت کو کانفرنس میں موجود ماہرین اور شرکاء کی جانب سے سراہا گیا۔ آنند مادھو کے اس تجزیے نے یہ واضح کر دیا کہ جدید سیاست میں الفاظ اور پیغامات کی طاقت کس قدر فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔