“فاتحہ پڑھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑیں گے”: اسمبلی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر ہنگامہ، اپوزیشن کا واک آؤٹ

اتر پردیش اسمبلی میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ایک بیان نے سیاسی اور آئینی سطح پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ ایوان کے اندر اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے اس ریمارک—کہ سرکاری کارروائی کے بعد مخالفین “فاتحہ پڑھنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے”—پر سخت تنقید شروع ہو گئی ہے۔ اپوزیشن نے اسے دھمکی آمیز، غیر آئینی اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا بیان قرار دیا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسمبلی میں کوڈین پر مبنی کھانسی کے شربت کے مبینہ غلط استعمال پر حکومت سے جواب طلب کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ نے سماج وادی پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارروائی “آخری مرحلے تک جائے گی” اور اس کے بعد کئی لوگ “فاتحہ پڑھنے بھی جائیں گے، لیکن حکومت انہیں فاتحہ پڑھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑے گی۔”

فاتحہ قرآن کی پہلی سورہ ہے، جسے مسلمان نماز کے ساتھ ساتھ مرحومین کے لیے دعا کے طور پر بھی پڑھتے ہیں۔ ایسے میں اسمبلی کے فلور پر اس مذہبی علامت کے استعمال کو لے کر اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ پر سیاسی حملے کے لیے مذہب کو استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف زبان و بیان کی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کی جانب سے اقلیتی مذہبی روایت کو سیاسی ہتھیار بنانا ایک سنگین معاملہ ہے۔

قائدِ حزبِ اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے وزیر اعلیٰ کے بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا،
“ان کی زبان ان کے عہدے کے شایانِ شان نہیں ہے۔ ہم طرزِ حکومت اور جوابدہی سے متعلق سوال اٹھا رہے تھے، مگر وزیر اعلیٰ نے حقائق کے بجائے دھمکی اور مذہبی حوالوں کا سہارا لیا۔”

انہوں نے کہا کہ مذہبی عقیدے کو سیاسی بحث میں گھسیٹنا اسمبلی کی وقار کو مجروح کرتا ہے اور جمہوری مکالمے کو خوف اور قطبیت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد سماج وادی پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

لکھنؤ میں مقیم وکیل عریب الدین نے انصاف ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بیان نہایت قابلِ اعتراض ہے۔
“ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کا یہ اشارہ دینا کہ لوگوں کو آخری رسومات کے قابل بھی نہیں چھوڑا جائے گا، ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جب یہ تصور خاص طور پر کسی اقلیتی مذہبی روایت سے لیا جائے تو یہ خوف اور حاشیہ بندی کو فروغ دیتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیان آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی اور آرٹیکل 21 کے تحت باوقار زندگی اور موت کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
“آئینی منصب پر فائز شخص کے الفاظ قانون سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ جب وہی الفاظ موت اور مذہبی شناخت سے جڑے ہوں تو وہ قانون کے بجائے نفرت اور خوف کو جائز ٹھہراتے ہیں،” انہوں نے کہا۔

وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جہاں اسے آئینی وقار اور سیکولرازم پر حملہ قرار دے رہی ہے، وہیں حکمراں جماعت کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ معذرت یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسمبلی جیسے اعلیٰ ترین جمہوری فورم پر اس قسم کی زبان قابلِ قبول ہے؟ اور کیا اقتدار کے اعلیٰ مقام پر بیٹھے افراد کو اپنے الفاظ کی آئینی اور سماجی ذمہ داری کا احساس نہیں ہونا چاہیے؟

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو