انصاف ٹائمس ڈیسک
ویشالی ضلع کے راجہ پاکڑ تھانہ علاقے کے چوسیما-کلیان پور گاؤں میں پولیس حراست میں محمد ناصر شاہ کی موت کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ 5 ستمبر کو پیش آئے اس واقعے پر اپوزیشن جماعتیں آر جے ڈی اور کانگریس نے ریاستی حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق، 5 ستمبر کو ایک معمولی جھگڑے کے بعد پولیس نے گاؤں میں چھاپہ مار کارروائی کی تھی، جس دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ الزام ہے کہ انہی میں سے ایک، محمد ناصر شاہ جو مسلم فقیر (انتہائی پسماندہ طبقہ) برادری سے تعلق رکھتے تھے، پولیس کस्टڈی میں جان کی بازی ہار گئے۔
آر جے ڈی اقلیتی شعبہ کے صوبائی صدر ڈاکٹر انور عالم نے ہفتہ کو پٹنہ میں وزیراعلیٰ کا پتلا نذرِ آتش کر کے احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شاہ کی موت پولیس کی زیادتی کا نتیجہ ہے اور یہ ریاستی انتظامیہ کے لیے بدنما داغ ہے۔ آر جے ڈی کی دس رکنی جانچ کمیٹی نے جمعہ کو اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں پولیس کے کردار پر سنجیدہ سوال اٹھائے گئے۔ آر جے ڈی رہنماؤں نے انتباہ دیا کہ اگر قصورواروں پر کارروائی نہ ہوئی تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور اسے انتخابی ایشو بھی بنائیں گے۔
کانگریس کے انتہائی پسماندہ طبقہ کے صوبائی صدر ششی بھوشن پنڈت نے بھی اپنی جانچ ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ پولیس نے معمولی جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر محمد ناصر شاہ کو گرفتار کیا اور تھانے میں ہی ان کا قتل کر دیا۔ کانگریس نے ملزم ایس ایچ او کو پھانسی اور دیگر افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد سے گاؤں میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے بے گناہوں کو بھی نشانہ بنایا۔ مقتول کے اہلِ خانہ انصاف اور معاوضے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
آر جے ڈی اور کانگریس دونوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک قصورواروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اور متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ دوسری جانب حکومت کی خاموشی پر اپوزیشن سوال اٹھا رہی ہے اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔