امریکہ۔ہند خلائی تجارت کے مستقبل کا تعین، از: ظہور حسین بٹ

اس مضمون میں امریکی ماہر ایرک اسٹالمر بتا رہے ہیں کہ بڑھتا ہوا تجارتی تعاون کس طرح امریکہ اور ہندوستان کو ابھرتی ہوئی ’لو ارتھ آربٹ‘ معیشت کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

خلائی شعبہ تیزی سے اقتصادی ترقی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا ایک اہم محرک بنتا جارہا ہے ۔ امریکی خلائی صنعت کے ماہر ایرک اسٹالمر نے بینگالورو اور نئی دہلی کے اپنے حالیہ دورے میں ایک واضح موقع کا مشاہدہ کیا۔ یعنی ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اسٹارٹ اپ کمیونٹی کو امریکی تجارتی ماڈل کے تجربات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔ وہ کہتے ہیں ’’ ہماری اس بات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی کہ امریکی ماڈل کس طرح کام کرتا رہا ہے اور ہندوستانی اسٹارٹ اپ کمپنیاں اس تجربے سے کیا سیکھ سکتی ہیں۔ یہ گفت و شنید بامعنی اور غور و فکر سے بھر پور تھی۔ ‘‘
امریکی اسپیکر پروگرام کے تحت اسٹالمر کے دورے، جس میں امریکہ۔ہند اسپیس بزنس فورم اور جامعات میں منعقدہ راؤنڈ ٹیبل مباحثے شامل تھے، نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کس طرح تجارتی جدت، پالیسی فریم ورک اور سرمایہ کاری مل کر امریکہ۔ہند خلائی تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔

امریکی ماڈل سے حاصل ہونے والے اسباق

ہندوستانی کاروباری افراد اور محققین کے ساتھ اپنی گفتگو میں اسٹالمر نے امریکہ کی جانب سے تجارتی بنیادوں پر قائم خلائی شعبے کی تشکیل میں خاصی دلچسپی کا مشاہدہ کیا، خصوصاً اُن عوامل کے حوالے سے جو کمپنیوں کو توسیع دینے کے قابل بناتے ہیں۔
وہ اس ترقی کی ایک بنیادی وجہ امریکہ کے طریقۂ کار میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’امریکہ واقعی ایک بڑی تبدیلی سے گزرا ہے، ایک ایسے ماڈل سے جہاں حکومت تقریباً ہر کام خود کرتی تھی، ایک ایسے نظام کی طرف جہاں وہ بڑے پیمانے پر تجارتی شعبے پر انحصار کررہی ہے۔‘‘
اس تبدیلی کا ایک اہم کلیدی حصہ ایسا ضابطہ جاتی طریقۂ کار رہا ہے جو صنعت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہتا ہے۔ اسٹالمر وضاحت کرتے ہیں ’’ہلکے ضابطہ جاتی طریقۂ کار نے بہت مدد دی ہے۔ حکومت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا کچھ پہلے سے موجود تھا اور کیا وہ اب بھی موزوں ہے اور کن امور میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘‘
اس میں ابھرتی ہوئی ضروریات کے مطابق پالیسیوں کو ڈھالنا بھی شامل تھا، جیسے کہ فریم ورک کو لانچ سے آگے بڑھاتے ہوئے ری انٹری جیسے شعبوں تک وسعت دینا۔ وہ کہتے ہیں ’’پالیسی سازی میں اس طرح کا تدریجی طریقۂ کار، یعنی جو مؤثر ہے اسے برقرار رکھا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں تبدیلی لائی جائے، نے امریکہ کے تجارتی خلائی شعبے کی ترقی کو فروغ دیا ہے۔‘‘
ہندوستانی کمپنیوں کے لیے یہ اسباق خاص طور پر موزوں ہیں، کیونکہ ملک کا خلائی شعبہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اسٹارٹ اپس کی بڑھتی ہوئی بنیاد اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے ساتھ، اصل موقع اس رفتار کو مؤثر پالیسیوں، سرمایہ تک رسائی اور عالمی شراکت داریوں کے ساتھ جوڑنے میں ہے۔

شراکت داری کی اگلی منزل

اسٹالمر کے مطابق امریکہ۔ہند تعاون کا اگلا مرحلہ ’لو ارتھ آربِٹ‘ معیشت (مراد وہ معاشی سرگرمیاں اور تجارتی مواقع ہیں جو زمین کے قریب ترین مدار میں موجود سیٹلائٹس اور خلائی انفراسٹرکچر کے گرد گھومتی ہیں) کی تیز رفتار توسیع سے متعین ہوگا۔ وہ کہتے ہیں ’’میں تجارتی خلائی اسٹیشنوں کے بارے میں بہت پُرجوش ہوں۔ میرے خیال میں یہی کم زمینی مدار والی معیشت میں اگلا بڑا قدم ہے۔‘‘ وہ اس ضمن میں بطور مثال اسٹارلیب کا حوالہ دیتے ہیں جو ووآئجر ٹیکنالوجیز کی جانب سے ناسا کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ایک اگلی نسل کا تجارتی خلائی اسٹیشن ہے ۔ اسے خلا میں ایک جدید تحقیقاتی مرکز کے طور پر بنایا گیا ہے اور امید ہے کہ یہ سائنسی اور تجارتی کاموں میں مدد کرے گا۔اسٹالمر کہتے ہیں ’’مجھے یہاں دنیا بھر کے سائنسدانوں اور محققین، خاص طور پر ہندوستان کے لیے، بہت سے مواقع نظر آتے ہیں۔ ‘‘
مائیکرو گریویٹی(کم کشش ثقل ) تحقیق کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ، اس طرح کے پلیٹ فارمس بین الاقوامی شمولیت کے نئے راستے کھول رہے ہیں۔ 2035 تک اسپیس اسٹیشن بنانے کے ہندوستان کے منصوبے تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہیں، جس سے مشترکہ تحقیق، مشترکہ صلاحیتوں اور تجارتی شراکت داریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

منڈیوں کو سمجھنا اور شراکت داریاں قائم کرنا

امریکی منڈی میں داخل ہونے کی خواہش رکھنے والی ہندوستانی کمپنیوں کے لیے اسٹالمر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کامیابی کے لیے صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں ’’آپ کو مضبوط سائنسی اور انجینئرنگ والی ذہنیت کے ساتھ حقیقی کاروباری صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ بانیوں کو جدت اور عمل درآمد کے درمیان توازن قائم کرنا ہوتا ہے، جس میں سرمایہ حاصل کرنا، تجاویز تیار کرنا اور سرکاری شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہے۔ جیسے جیسے کمپنیاں وسعت اختیار کرتی ہیں، تیزی سے بدلتی اور انتہائی مسابقتی منڈی میں کام کرنے کی سمجھ نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے جتنی ہی اہم ہو جاتی ہے۔
اسٹالمر کے مطابق حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تعاون امریکہ۔ہندخلائی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نائیسار مشن جیسے مشترکہ اقدامات کو اس بات کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ مشترکہ اہداف پر ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے سے کیا کچھ ممکن ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’اس نوعیت کا تعاون امریکی اور ہندوستانی دونوں کمپنیوں کے لیے ترقی کو فروغ دے سکتا ہے ‘‘ ۔وہ خاص طور پر اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے درمیان براہِ راست تعاون کی اہمیت پربھی زور دیتے ہیں۔
اسی کے ساتھ امریکہ۔ہنداسپیس بزنس فورم جیسے پلیٹ فارم نیت کو عملی شکل دے رہے ہیں۔ کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور حکومتی نمائندوں کو ایک جگہ لا کر، فورم نے خیالات کے تبادلے، منڈی کی ضروریات کو سمجھنے اور شراکت داریاں قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ اسٹالمر کہتے ہیں ’’اس نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں آپ متنوع کمپنیوں سے مل سکتے ہیں اور یہ جان سکتے ہیں کہ وہ کیا تیار کر رہی ہیں اور مواقع کہاں موجود ہیں۔‘‘
وہ امریکہ کے محکہ تجارت اور یو ایس کمرشل سروس جیسے اداروں کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہیں، جو ان روابط کو مضبوط بنانے اور کمپنیوں کو نئی منڈیوں میں مؤثر طور پر کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ میرا پختہ یقین ہے کہ عالمی شراکت داریاں اور عالمی تجارت میں دنیا کا مستقبل ہے۔ اور میں یہ دیکھنے کا خواہاں ہوں کہ ہمارے دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ مزید قریبی تعاون کریں ۔‘‘

بشکریہ: اسپَین میگزین