انصاف ٹائمس ڈیسک
وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو پورنیہ کے دورے پر رہے، جہاں انہوں نے ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا اور کئی ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ دیا۔ اسی دوران بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور سوالات کی جھڑی لگا دی۔
تیجسوی نے کہا کہ جلسہ گاہ سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر خستہ حال سڑکیں، استاد سے محروم اسکول اور بدحال طبی مراکز بہار کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے پورنیہ میڈیکل کالج (GMCH) کی حالت کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں مریضوں کو ایک ہی بستر پر ٹھونس دیا جاتا ہے اور اسپتال میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
تیجسوی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم کی ایک ریلی سے بہار جیسے غریب ریاست پر تقریباً 100 کروڑ روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، “اگر یہی رقم اسکولوں کی چار دیواری، لڑکیوں کے لیے بیت الخلا، اور طبی مراکز میں دوائیں و عملہ مہیا کرنے پر خرچ کی جاتی تو بہاری عوام کو کہیں زیادہ فائدہ ملتا۔”
انہوں نے پروگرام کے انتظامات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے دورے پر اساتذہ کو پڑھانے سے روک کر کنڈکٹر بنا دیا جاتا ہے اور جیونیکا دیدیوں، آشا-ممتا کارکنان اور آنگن واڑی معاونات کو بھیڑ جمع کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
تیجسوی نے وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ 11.5 برس قبل پورنیہ ہی سے انہوں نے بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ “اس وعدے کا کیا ہوا؟ کیا ایک بار پھر بہاری عوام کو انتخابات سے قبل جھوٹ اور جملے ہی بیچے جائیں گے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔
بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے بار بار ’جنگل راج‘ کا ذکر کیے جانے پر بھی انہوں نے طنز کیا۔ تیجسوی نے کہا کہ مرکز اور این ڈی اے حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے شور مچایا جاتا ہے، لیکن اب بہار کی عوام حقیقت جان چکی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پورنیہ ایئرپورٹ اور دیگر منصوبے شمالی بہار کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے منصوبوں سے خطے میں رابطہ اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔