بورڈ کی تشکیل سے لے کر زمین کے تنازعات تک — سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کی کئی دفعات پر روک لگا دی

انصاف ٹائمس ڈیسک

سپریم کورٹ نے پیر کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی کئی متنازع دفعات پر عبوری روک لگاتے ہوئے اہم حکم جاری کیا۔ عدالت نے صاف کہا کہ بعض شقیں بغیر واضح طریقۂ کار کے نافذ کیے جانے پر من مانی اور غیر آئینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔

ایکٹ میں شرط رکھی گئی تھی کہ کسی شخص کو وقف بورڈ کا رکن بننے کے لیے کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہونا ضروری ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک ریاستی حکومتیں اس شرط کی جانچ کے لیے کوئی واضح نظام نہیں بناتیں، تب تک اس شق کو نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ بغیر نظام کے یہ شرط ’’من مانی‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

عدالت نے اس دفعہ پر بھی روک لگا دی، جس کے تحت حکومت کو کسی زمین کے تنازع کے حل سے قبل ہی وقف زمین کو ڈی ریکگنائز کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ کورٹ نے کہا کہ کلیکٹر کو زمین کے تنازع کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا اختیارات کی علیحدگی (Separation of Powers) کے اصول کے خلاف ہے۔ جب تک عدالت یا وقف ٹریبونل زمین کے حقِ ملکیت کا فیصلہ نہیں کر دیتے، تب تک اس زمین کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ مزید برآں، عدالت نے ہدایت دی کہ متنازع زمین پر کسی تیسرے فریق کا حق قائم نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم اراکین کی تعداد 4 سے زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ ریاستی وقف بورڈز میں یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 3 تک محدود رہے گی۔

عدالت نے اس شق میں مداخلت نہیں کی، جس کے تحت ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (CEO) کے طور پر غیر مسلم کو تقرر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ ضرور کہا کہ ’’جہاں تک ممکن ہو‘‘ اس عہدے پر کسی مسلمان کو ہی تقرر کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے وقف اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق شق میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ 1995 سے 2013 تک بھی یہی شرط نافذ رہی تھی، اس لیے اس میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم وقف ایکٹ 2025 کو لے کر جاری بحث اور تنازع کے درمیان سامنے آیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فی الحال جن شقوں پر روک لگائی گئی ہے، ان پر حتمی سماعت کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی۔

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو