سپریم کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ مَمْتَا بنرجی اور سینئر پولیس افسران کو آئی‑پیک (ہندوستانی سیاسی ایکشن کمیٹی) کے دفتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تلاشی کے دوران مبینہ مداخلت کے الزام پر نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے مغربی بنگال پولیس کی جانب سے ای ڈی اہلکاروں کے خلاف درج ایف آئی آرز پر عارضی روک بھی لگا دی ہے۔
سپریم کورٹ کی بینچ، جس میں جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس وِپُل ایم پَنچولی شامل ہیں، نے کہا کہ یہ معاملہ ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے مرکزی تحقیقاتی اداروں کے کام میں مداخلت کے سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور اسے عدالت میں تفصیل سے دیکھا جائے گا۔
عدالت نے مَمْتَا بنرجی، ڈی جی پی راجیو کمار، کولکاتا پولیس کمشنر اور دیگر سینئر افسران کو دو ہفتے کے اندر جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ آئی‑پیک کے دفتر اور آس پاس کے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھے جائیں تاکہ ریکارڈ میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔
ای ڈی نے سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ آٹھ جنوری کو کولکاتا میں آئی‑پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کے رہائش گاہ پر تلاشی کے دوران ریاستی پولیس اور مَمْتَا بنرجی کی موجودگی نے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی۔ ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ دستاویزات اور برقی آلات ہٹائے گئے، جن پر منی لانڈرنگ سے متعلق معلومات ہو سکتی تھیں۔
ای ڈی کی درخواست میں سی بی آئی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ریاستی افسران نے ایجنسی کے غیر جانبدارانہ کام میں رکاوٹ ڈالی یا نہیں۔
عدالت نے کہا کہ یہ محض ایک معمولی تنازعہ نہیں بلکہ مرکزی تحقیقاتی ادارے کی آزادی اور قانون کی حکمرانی جیسے آئینی اصولوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر ایسے واقعات کو نظرانداز کیا گیا تو یہ دیگر ریاستوں میں بھی قانون و انصاف کے لیے مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔
بی جے پی نے سپریم کورٹ کے احکامات کو مَمْتَا بنرجی کے خلاف سنگین اشارہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے ثبوت پیش کریں گے اور اگر ای ڈی کی دلائل غلط ثابت ہوتی ہیں تو بلاجواز انتقامی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں آگے بڑھے گا۔ اگلی سماعت تین فروری دو ہزار چھبیس کو ہوگی۔ تب تک ایف آئی آرز پر عارضی روک برقرار رہے گی اور سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھا جائے گا۔ دونوں فریق عدالت میں یہ دلائل پیش کریں گے کہ آیا ریاستی حکومت نے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی یا ای ڈی کی کارروائی سیاسی طور پر متاثر تھی۔