انصاف ٹائمس ڈیسک
پیر کے روز سپریم کورٹ میں ایک متنازعہ واقعہ پیش آیا جب 71 سالہ وکیل راکیش کشور نے چیف جسٹس (CJI) جسٹس بی۔آر۔ گوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق، کشور نے اسٹیج کی طرف بڑھتے ہوئے زور سے کہا، “بھارت سناتن دھرم کے توہین کو برداشت نہیں کرے گا۔” تاہم، سکیورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں روک دیا۔
واقعہ کے فوراً بعد بار کونسل آف انڈیا (BCI) نے راکیش کشور کا وکالت لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا۔ BCI نے کہا کہ یہ کارروائی عدالت کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
راکیش کشور نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کا یہ اقدام جذباتی صدمے اور مذہبی تبصرے سے دل آزاری کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی نشے یا جذباتی طور پر نہیں بلکہ ان کی ردعمل تھی، “میں نشے میں نہیں تھا، نہ کوئی گولی لی تھی۔ یہ میری ردعمل تھی۔ مجھے نہ خوف ہے، نہ افسوس۔”
کشور نے بتایا کہ 16 ستمبر کو دائر PIL کی سماعت کے دوران CJI نے بھگوان وشنو کی مورتی کے دوبارہ تعمیر کے بارے میں تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا “CJI نے کہا ‘جاؤ مورتی سے کہو کہ وہ اپنا سر خود جوڑ لے۔’ یہ تبصرہ سناتن دھرم کی توہین ہے۔”
راکیش کشور نے جسٹس گوئی کی ذات پات کی شناخت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا “انہوں نے پہلے سناتنی ہندو دھرم اختیار کیا اور بعد میں بدھ دھرم اپنا لیا۔ اگر انہوں نے مذہب بدل لیا، تو وہ ابھی بھی دلت کیسے ہیں؟ یہ سیاسی فائدہ اٹھانے کی سوچ ہے۔”
چیف جسٹس آف انڈیا گوئی نے ماریشس میں ایک لیکچر میں کہا تھا کہ “بھارت میں حکمرانی قانون کے نفاذ سے چلتی ہے، بلڈوزر کے نفاذ سے نہیں۔”
انہوں نے نومبر 2024 کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں ‘بلڈوزر جسٹس’ کو غیر آئینی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
واقعہ کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کرناٹک کے سینئر وکیل بی۔وی۔ آچاریہ نے اسے “بے مثال جرم” قرار دیا، جبکہ کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کہا کہ یہ “زہریلےفرقہ وارانہ پروپیگنڈا” کا نتیجہ ہے۔
واقعہ کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عدالت کی حفاظت اور عدلیہ کی عظمت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔