سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام سمیت چاروں کی ضمانت کی درخواست کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی

انصاف ٹائمس ڈیسک

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز 2020 کے دہلی دنگوں سے متعلق کیس میں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ ان چاروں پر یو اے پی اے (Unlawful Activities (Prevention) Act) کے تحت الزامات عائد ہیں۔

بینچ کے جج اروند کمار اور جج این۔وی۔ انجاریا نے کہا کہ انہیں کیس کی فائل دیر رات موصول ہوئی اور اسے پڑھنے کے لیے کافی وقت نہیں ملا، اسی وجہ سے سماعت آگے بڑھا دی گئی۔

ان چاروں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں پہلے دہلی ہائی کورٹ میں مسترد ہو چکی ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر تشدد کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

عدالت میں پیش کی گئی درخواستوں میں وکیلوں نے دلائل دیے کہ دیگر ملزمان جیسے نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اس لیے برابری کے اصول کے تحت ان کے مؤکلوں کو بھی ضمانت دی جانی چاہیے۔

عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی دنگوں کے مبینہ سازشی منصوبے میں مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جبکہ گلفشاں فاطمہ اور میران حیدر بھی اس کیس میں ملزمان ہیں۔ یہ چاروں ملزمان 2020 سے مختلف مقدمات میں گرفتار ہیں اور تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت 19 ستمبر کو مقرر کی ہے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور