طلبہ کارکن اور محقق شرجیل امام کی مبینہ “غلط اور ناانصافی پر مبنی” قید کو آج چھ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اب تک کسی بھی مقدمے میں سزا ثابت نہ ہونے کے باوجود ان کا مسلسل جیل میں رہنا ملک کے فوجداری نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس بات کی علامت بن چکا ہے کہ کس طرح طویل قید ہی کو سزا میں بدل دیا گیا ہے، جبکہ انصاف کا قانونی عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
کیمپین اگینسٹ اسٹیٹ ریپریشن نے اپنے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ شرجیل امام اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد کی ضمانت کی درخواستوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کیا جانا انصاف کا کھلا “مذاق” ہے۔ تنظیم کے مطابق، برسوں تک بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں رکھنا شخصی آزادی، مناسب قانونی عمل اور اس آئینی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے جس کے مطابق “ضمانت اصول ہے اور جیل ایک استثنا۔”
تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ طلبہ، سماجی کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں اور حاشیے پر موجود طبقوں کی آوازوں کو دبانے کے لیے سخت اور جابرانہ قوانین کا منظم طریقے سے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلافِ رائے کو جرم میں تبدیل کرنا اور طویل قید کو سیاسی جبر کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔
اپنے بیان میں تنظیم نے شرجیل امام اور عمر خالد کی فوری رہائی کا مطالبہ دہراتے ہوئے پورے ملک میں ان تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی اپیل کی ہے جنہیں صرف اس وجہ سے جیلوں میں رکھا گیا ہے کہ ان کے سیاسی خیالات حکمراں بی جے پی–آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ تنظیم نے جابرانہ قوانین کے ہتھیار بنائے جانے، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے اور سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے سلسلے کو فوری طور پر ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا ہے: “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔”
تنظیم کی تنظیمی ٹیم میں آل انڈیا ریوولیوشنری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس، امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، بھیِم آرمی، پیپلز واچ، رہائی منچ، مزدور ادھیکار سنگٹھن، نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹس سمیت درجنوں سماجی اور سیاسی تنظیمیں شامل ہیں۔
شرجیل امام کی چھ سالہ طویل قید نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو مرکزِ بحث بنا دیا ہے کہ آیا بھارت میں اختلافِ رائے کی قیمت جیل بنتی جا رہی ہے، اور کیا ملک کا عدالتی نظام اس سنگین چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔