شیخ بھکاریؒ: فخرِ جھارکھنڈ، مجاہدِ آزادی کی درخشاں داستان

از قلم:محمد قمر الزماں ندوی
دگھی، گڈا، جھارکھنڈ

ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی ایک ہمہ گیر اور ہمہ رنگ تحریک تھی ،جس میں ہر خطے، ہر قوم اور ہر طبقے کے فرزندوں نے اپنی جان و مال قربان کر کے تاریخ کے افق پر لازوال نقوش ثبت کیے۔ بدقسمتی سے قومی تاریخ کے اوراق میں کئی ایسے درخشاں ستارے ہیں جن کی روشنی علاقائی حدوں میں سمٹ کر رہ گئی، حالانکہ ان کی قربانیاں ہمہ جہت اور کل ہند سطح کی قدر و منزلت کی مستحق تھیں۔ جھارکھنڈ کی سرزمین نے بھی ایسے ہی ایک عظیم سپوت کو جنم دیا جسے تاریخ شیخ بھیکاریؒ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ نہ صرف 1857ء کی جنگِ آزادی کے فعال کردار تھے، بلکہ ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت، قومی غیرت اور آزادی کی تمنا کی علامت بھی تھے۔

تاریخی پس منظر اور عہدِ ابتلا

انیسویں صدی کے وسط میں جب برطانوی استعمار نے ہندوستانی سماج کی جڑوں کو کمزور کرنے، مقامی اقتدار کو کچلنے اور معاشی و سماجی استحصال کو منظم شکل دینے کی کوششیں تیز کر دیں، تو اس کے خلاف فطری ردِعمل کے طور پر عوامی بغاوتیں ابھرنے لگیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی محض ایک فوجی بغاوت نہیں تھی بلکہ یہ ہندوستانی شعور کی بیداری کا اعلان تھی۔ اسی عہد میں جھارکھنڈ اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی مزاحمت کی چنگاریاں روشن ہوئیں، جنہیں منظم کرنے میں شیخ بھیکاریؒ کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

شیخ بھیکاریؒ: شخصیت اور فکری اساس

شیخ بھیکاریؒ ایک صاحبِ بصیرت، نڈر اور باعمل رہنما تھے۔ ان کی شخصیت میں دینی اخلاقیات، قومی غیرت اور عوامی خدمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ وہ محض تلوار یا بندوق کے سہارے جدوجہد کے قائل نہ تھے بلکہ عوامی بیداری، اتحاد اور نظم و ضبط کو آزادی کی کامیابی کی شرط سمجھتے تھے۔ ان کا پیغام سادہ مگر مؤثر تھا: غلامی کے خلاف مزاحمت ایمان اور وطن دونوں کا تقاضا ہے۔۔

شیخ بھکاری کی مختصر حالاتِ زندگی

شیخ بھکاری کی پیدائش 1819ء میں ہوپٹے گاؤں تھانہ بدمو ،ضلع رانچی میں ہوئی تھی ۔ آپ کے والد کا نام شیخ بلند تھا۔ آپ نے مقامی اسکول سے میڈل تک تعلیم حاصل کی, اس کے بعد فوج میں داخل ہوگئے ۔ 3/ سال قومی اسٹیٹ کی فوج میں ملازمت کے بعد آپ کواودا اسٹیٹ میں دیوان کا عہدہ ملا جہاں راجا وسواندھا شاہ دیو کے دیوان کا کام کرتے ہوئے پورے اسٹیٹ کی حفاظت کا ایسا معقول بندوبست کیا کہ راجا بہت خوش ہوا ۔ آپ نے راجا کو سرحد پر انگریزی حکومت سے آنے والے خطرے کے بارے میں بتایا تو راجا آپ کی دور اندیشی سے متاثر ہوا ۔ شیخ بھکاری نے اپنے دو خاص لوگوں کو انگریزی فوج کے مرکز جو رام گڑھ ضلع ہزاری باغ میں تھا ،بھیج کر فوج کی پوری معلومات حاصل کرائی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے 2/ ملازموں نادر علی خاں اور وجے سنگھ کو اپنی طرف ملانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کے بعد اپنے تین مخبر امانت علی انصاری ،کرامت علی و شیخ ہورے کو آس پاس کے اسٹیٹ میں بھیج کر انگریزی حکومت کے سرحد بڑھانے کے ارادے سے باخبر کرایا اور ساتھ ہی مدد کی بات بھی کرائی ۔تیاری ہوجانے کے بعد آپ نے 9/ جون 1857ء کو رام گڑھ انگریز چھاؤنی پر حملہ کرکے جیت حاصل کی ۔ چھاؤنی پر قبضہ ہوجانے کے بعد پورے لاؤ لشکر کے ساتھ شام میں جشن منایا اور اس کے بعد آدھی رات میں سنتھال پرگنہ کے بھانوکا انگریز چھاؤنی پر حملہ کرکے اس پر بھی قبضہ کر لیا ۔ کچھ انگریزی افسر جان بچا کر جنگل میں بھاگ گئے ،انہیں بھی کھدیر کا مار گرایا۔
دونوں چھاؤنیوں پر قبضہ کی خبر دانا پور انگریزی چھاؤنی پہنچی، تو شیخ بھکاری کے مقابلے کے لیے انگریزی فوج کو رام گڑھ کے لیے روانہ کیا ۔ شیخ بھکاری نے ایک محاذ خود سنبھالا اور دوسرے محاذ پر امراؤ سنگھ کو لگایا اور پھر دونوں فریق کی طرف سے جنگ ہوئی ، شیخ کے لوگوں کے پاس اسلحے کم تھے، اس لیے بہت سخت مقابلے کے بعد شکست کھانی پڑی ۔ انگریز افسر نے شیخ بھکاری کو اور امراؤ سنگھ کو گرفتار کر لیا جنہیں 6/ جنوری 1858ء کو بغیر کسی مقدمہ اور سنوائی کے درخت سے لٹکا دیا ۔
شیخ بھکاری کی موت کی خبر انگریز کمانڈر نے اپنے لوگوں اس طرح دی کہ انقلابیوں کے سب سے خطرناک کمانڈر شیخ بھکاری کو پھانسی دینے میں ہم کامیاب ہوگئے ہیں ۔ اب سنتھال پرگنہ میں ہماری فوج کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز شیخ بھکاری سے کس قدر خائف تھے ۔ (مستفاد از کتاب لہو بولتا بھی ہے ، ص، 232. 231)

جنگِ آزادی میں عملی کردار

1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران شیخ بھیکاریؒ نے جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں کو منظم کیا۔ انہوں نے مقامی قبائل، کسانوں اور شہری آبادی کے درمیان رابطہ قائم کر کے ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا۔ اس دور میں جب وسائل محدود اور دشمن طاقتور تھا، شیخ بھیکاریؒ نے حوصلے، تدبر اور جرات سے کام لیتے ہوئے برطانوی منصوبوں کو نقصان پہنچایا اور ان کے لیے مقامی سطح پر مشکلات پیدا کیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان کی جدوجہد محض وقتی جوش کا نتیجہ نہ تھی بلکہ ایک طویل المدت وژن پر مبنی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ آزادی کی راہ میں قربانی ناگزیر ہے، اس کے باوجود انہوں نے پسپائی اختیار نہ کی۔ ان کے اقدامات نے مقامی آبادی میں حوصلہ پیدا کیا اور یہ احساس راسخ کیا کہ انگریزی اقتدار ناقابلِ شکست نہیں۔

گرفتاری، استقامت اور شہادت

بالآخر برطانوی حکومت نے شیخ بھیکاریؒ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر کو اپنے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔ قید و بند، تفتیش اور دباؤ کے باوجود انہوں نے اپنے رفقا کے نام افشا کیے نہ اپنے موقف سے دستبرداری اختیار کی۔ ان کی استقامت اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ سچا مجاہد حالات کا نہیں، اصولوں کا پابند ہوتا ہے۔

1858ء میں انہیں سزائے موت دے دی گئی۔ یہ شہادت بظاہر ایک فرد کا خاتمہ تھی، مگر درحقیقت یہ ایک تحریک کی آبیاری ثابت ہوئی۔ ان کی قربانی نے جھارکھنڈ سمیت پورے خطے میں آزادی کی آگ کو مزید بھڑکا دیا اور آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت کا استعارہ بن گئی۔

فخرِ جھارکھنڈ: تاریخی و قومی مقام

شیخ بھیکاریؒ کو بجا طور پر فخرِ جھارکھنڈ کہا جاتا ہے۔ وہ اس خطے کی اس روایت کے امین ہیں جس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی غماز ہے کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک شہر، ایک طبقے یا ایک مذہب کی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک مشترکہ قومی قربانی کا ثمر ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ قومی سطح پر ان کا ذکر وہ مقام حاصل نہ کر سکا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نصابی کتب، تحقیقی مقالوں اور عوامی بیانیے میں شیخ بھیکاریؒ جیسے مجاہدین کو وہ مقام دیا جائے جو تاریخ کا انصاف ہے۔

پیغامِ عصرِ حاضر

شیخ بھیکاریؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی محض سیاسی خودمختاری کا نام نہیں بلکہ یہ عدل، مساوات اور انسانی وقار کی ضمانت ہے۔ آج جب ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں، تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ان عظیم قربانیوں کو محض رسمی تقاریب تک محدود نہ کریں بلکہ ان کے پیغام کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کریں۔

اختتامی کلمات

شیخ بھیکاریؒ کی حیات و خدمات ہندوستانی جدوجہدِ آزادی کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی قربانی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور جھارکھنڈ کی سرزمین ان پر بجا طور پر فخر کرتی رہے گی۔ ایک ذمہ دار قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے تذکرے کو زندہ رکھیں، ان کے پیغام کو عام کریں اور آنے والی نسلوں کو یہ باور کرائیں کہ آزادی کی بنیادیں خونِ شہداء سے مضبوط ہوتی ہیں۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو