انصاف ٹائمس ڈیسک
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون 2025 پر دیے گئے عبوری حکم پر شدید ناراضگی اور عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے قومی نائب صدر ایڈوکیٹ شرف الدین احمد نے کہا کہ عدالت نے اگرچہ بعض دفعات پر روک لگائی ہے، لیکن کئی خطرناک شقیں بدستور برقرار ہیں، جو مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق اور وقف اداروں کی خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ایس ڈی پی آئی کے مطابق سپریم کورٹ نے صرف ’’پانچ سال اسلام کی مشق‘‘ جیسی شرط پر اسٹے دیا ہے، مگر لیمٹیشن ایکٹ کا نفاذ، وقف بائے یوزر کی منسوخی اور بعض علاقوں میں وقف قائم کرنے پر پابندی جیسے دفعات اب بھی نافذ ہیں۔ پارٹی نے اس پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مسلم معاشرے کے لیے ’’ادھورا اور غیر تسلی بخش‘‘ ہے۔
ایڈوکیٹ شرف الدین احمد نے خاص طور پر اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ نے ریاستی وقف بورڈ اور مرکزی وقف کونسل میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت پر پابندی عائد کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس فیصلے کو ’’مایوس کن اور غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا۔
پارٹی نے یہ بھی خبردار کیا کہ وقف جائیدادوں کی لازمی رجسٹریشن کی شرط، جو تاریخی اوقاف کو خارج کرسکتی ہے، بدستور مسلم کمیونٹی پر لٹکتی تلوار کی طرح ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے صاف کیا کہ یہ عبوری فیصلہ کسی بھی صورت میں ’’مکمل کامیابی‘‘ نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں وقف ترمیمی قانون 2025 پر سماعت کرتے ہوئے پورے قانون پر روک لگانے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت نے صرف چند دفعات پر عبوری اسٹے دیا اور حکومت کے موقف کو جزوی طور پر درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ایکٹ کو مکمل طور پر نہیں روکا جاسکتا۔
اس فیصلے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے بھی ناراضگی ظاہر کی تھی اور اسے ’’ادھورا اور غیر تسلی بخش‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی عدالتی توثیق ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف اپنی جمہوری اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی نے یقین ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ اپنے حتمی فیصلے میں اس قانون پر مکمل روک لگا کر مسلم کمیونٹی کو انصاف فراہم کرے گی۔