سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا وندے ماترم کے تمام چھ بند لازمی گانے کے حکم پر سخت اعتراض
نئی دہلی: سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے وزارت داخلہ کی اس ہدایت کی سخت مذمت کی ہے جس میں سرکاری تقاریب، صدرِ جمہوریہ اور گورنروں سے متعلق پروگراموں اور تعلیمی اداروں کی اسمبلیوں میں وندے ماترم کے تمام چھ بند لازمی طور پر گانے کی بات کہی گئی ہے۔ پارٹی نے اسے ملک کے سیکولر جمہوری ڈھانچے پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر سیتارام کھوئیوال نے جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ 1937 میں اختیار کی گئی تاریخی دانشمندی کو نظرانداز کرتا ہے، جب تحریکِ آزادی کے دوران انڈین نیشنل کانگریس نے غور و خوض کے بعد گیت کے صرف پہلے دو بند اپنائے تھے تاکہ قومی گیت تمام برادریوں کے لیے قابلِ قبول اور ہمہ گیر رہے۔
انہوں نے کہا کہ بعد کے بندوں میں درگا اور لکشمی جیسے ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر اور مندروں سے متعلق علامات کی عکاسی کی گئی ہے، جسے کئی شہری، خصوصاً اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد، اپنے مذہبی عقائد کے مطابق نہیں سمجھتے۔ ایسے میں پورے گیت کو لازمی قرار دینا اور تمام حاضرین کے لیے کھڑا ہونا ضروری بنانا مذہب اور ضمیر کی آزادی جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سیتارام کھوئیوال نے کہا کہ بھارت جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں کسی بھی شہری کو ایسے عمل میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے جو اس کے ذاتی عقائد سے متصادم ہو۔ انہوں نے خاص طور پر تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسکول اور کالج اتحاد اور تعلیم کے مراکز ہونے چاہئیں، نہ کہ بے چینی اور تقسیم کا سبب بنیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قدم حب الوطنی کا مسئلہ نہیں بلکہ “اکثریتی ثقافتی بیانیہ” مسلط کرنے اور اقلیتوں کی وفاداری کو پرکھنے کی ایک سیاسی کوشش ہے۔ ان کے مطابق قومی علامات کے احترام کا جذبہ رضاکارانہ شرکت اور مکالمے سے فروغ پاتا ہے، نہ کہ سزا کے خوف یا سماجی دباؤ سے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مرکزی حکومت سے اس ہدایت کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی تنوع میں ہے، نہ کہ مسلط کردہ یکسانیت میں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ وہ جمہوریہ کے سیکولر کردار کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت جاری رکھے گی اور ایک ہمہ گیر بھارت کے حق میں کھڑی رہے گی۔