انصاف ٹائمس ڈیسک
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) گجرات نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے لیڈر دھرمیندر بھوانی کے خلاف درج ایف آئی آر میں سخت دفعات شامل کرنے کے مطالبے کے ساتھ گجرات ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کا الزام ہے کہ بھوانی نے “سیون ڈے اسکول” معاملے میں ایک طالب علم کی موت کے بعد منعقدہ تعزیتی اجلاس میں اشتعال انگیز اور توہین آمیز بیانات دیے۔ ان کی تقریر میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ، قرآنِ مجید اور احادیث کے خلاف گستاخانہ کلمات شامل تھے۔ ساتھ ہی مسلم کمیونٹی کو “جہادی” قرار دیا گیا اور تلواروں کی نمائش بھی کی گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے اور معاشرے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
پارٹی نے پولیس پر بھی جانبداری کا الزام عائد کیا۔ ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ متعدد تھانوں میں شکایت کرنے کے باوجود سخت دفعات میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ آخر کار کھوخرا تھانے میں جو پرچہ درج ہوا، اس میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 299 جیسی معمولی دفعات لگائی گئیں، جس کی وجہ سے ملزم کو آسانی سے ضمانت مل گئی۔ تنظیم نے اس کارروائی کا موازنہ مولانا سلمان اظہری کے معاملے سے کیا، جن پر محض ایک نظم پڑھنے پر سخت کارروائی کی گئی تھی۔
ایس ڈی پی آئی نے اپنی عرضداشت میں عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ دھرمیندر بھوانی کے خلاف نفرت پھیلانے، فرقہ وارانہ تعصب اور امن عامہ میں خلل ڈالنے سے متعلق سخت دفعات شامل کی جائیں۔
ریاستی صدر مفتی عبداللہ نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی آئین اور عدلیہ پر مکمل یقین رکھتی ہے اور تمام شہریوں کے لیے مساوی قانون کے اطلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ امن قائم رکھیں اور کسی بھی غیر قانونی عمل سے گریز کریں۔
اب سب کی نظریں ہائی کورٹ کی سماعت پر لگی ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عدلیہ اس حساس معاملے پر کیا رخ اختیار کرتی ہے۔