مرکزی وزیر داخلہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا اور فر قہ وارانہ کارڈکھیل رہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ آسام انتخابی مہم میں مرکزی وزیر داخلہ فرقہ وارانہ کارڈز کا استعمال کرکے اور عوام کو نفرت اور جھوٹ کے ذریعہ تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں اور وہ اس بات سے مایوس ہیں کہ ان کی پارٹی آسام میں شرمناک شکست کا سامنا کرنے والی ہے۔ ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت شاہ نے آسام میں پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیکر کہا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر “لوجہاد “اور “لینڈ جہاد”کے خلاف قوانین لائے گی۔ اس ملک کے وزیر داخلہ کو عوام کے درمیان کوئی بھی لفظ بولنے سے پہلے ان کے عہدے کی حیثیت اور وقار کا پتہ ہونا چاہئے۔ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ایک مرکزی وزیر داخلہ من گھڑت اور مذموم جھوٹ کے ذریعہ عوام کو تقسیم کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے پچھلے سال لوک سبھا میں کہا ہے کہ مرکزی ایجنسیوں میں سے کسی کے پاس “لوجہاد”کے ایسے واقعات کی اطلاع نہیں ہے۔ وزرات داخلہ کے اس بیان کے باوجود، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی پارٹی کی مفادات کیلئے “لوجہاد”کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے مذہب کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا کام کیا ہے اور ملک کو گمراہ کیا ہے۔ اب ملک کو تقسیم کرنے اور انتقام کی آگ میں جھونکنے کے ارادے سے انہوں نے اپنی طرف سے “لینڈ جہاد” کی نئی اصطلاح ایجاد کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا کہ آسام کے لوگ بی جے پی کی شیطانی ذہنیت سے بخوبی واقف ہیں اور امید ہے کہ انتخابات میں وہ اس پارٹی کو شرمناک شکست دیکر وہ اس کو اچھا سبق سکھائیں گے۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور