انصاف ٹائمس ڈیسک
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کی جانب سے شلپی-گوتم قتل کیس میں ان کا نام جوڑنے کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سمراٹ چودھری نے اس کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
پرشانت کشور نے پیر کو پٹنا میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ شلپی گوتم قتل کیس میں سمراٹ چودھری المعروف راکیش کمار کا نام مشتبہ ملزم کے طور پر سامنے آیا تھا۔ انہوں نے سمراٹ چودھری سے اس معاملے میں وضاحت دینے کا بھی چیلنج دیا تھا۔
سمراٹ چودھری نے پرشانت کشور کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا، “وہ راکیش کوئی آئسکریم بیچنے والا تھا، جو حاجی پور کا رہائشی ہے۔ اب یہ (پرشانت کیشور) کہاں سے یہ عقل لے آئے ہیں؟ شلپی گوتم کیس میں سی بی آئی نے مکمل تفتیش کی تھی۔ ہمیں تو کچھ معلوم بھی نہیں تھا۔ بہار کے بارے میں انہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔”
یہ معاملہ 3 جولائی 1999 کا ہے، جب پٹنا کے فریزر روڈ میں واقع ایک سرکاری کوارٹر کے گیراج سے ایک کار میں دو نیم برہنہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان میں سے ایک لاش شلپی جین کی تھی، جو پٹنہ ویمنز کالج کی طالبہ اور مس پٹنا کا خطاب جیت چکی تھیں۔ دوسری لاش گوتم سنگھ کی تھی، جو راجد کے نوجوان شاخ سے منسلک تھے اور کئی حکومتی رہنماؤں سے دوستی رکھتے تھے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے تفتیش کی تھی، لیکن اسے خودکشی مانتے ہوئے کلوزر رپورٹ فائل کی گئی تھی۔
سمراٹ چودھری نے پرشانت کشور کو ‘نوآموز رہنما’ بتاتے ہوئے کہا کہ وقت آنے پر عوام سب کا حساب لے گی اور دوبارہ این ڈی اے کی حکومت قائم کرے گی۔
اس دوران، جن سوراج پارٹی نے سمراٹ چودھری کے خلاف گورنر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ آئندہ بہار اسمبلی انتخابات میں ایک نیا سیاسی محاذ کھول سکتا ہے، جہاں دونوں فریقین کے درمیان الزامات اور جوابات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔