اللہ کی عدالت کو ہندوستانی سپریم کورٹ مت سمجھیے ناموسِ رسالت پر حملے اور جذباتی اہلِ دعوت کے نئے بہانے

” سمیع اللہ خان گزشتہ روز ایک ملعون و مردود سوامی نے اللہ کے رسولﷺ کےخلاف بدتمیزی الزام تراشی اور کردارکشی پر مشتمل پریس کانفرنس کی، یہ آدمی ایک طویل عرصے سے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلا رہاہے، اور زمینی سطح پر ایک نیم فوجی دستے جیسی ٹیم تشکیل دینے کا بھی ارادہ رکھتاہے اور کام بھی کررہا، سوامی نرسنگھانند صرف جلسوں میں مسلمانوں کےخلاف نفرت کےحملے نہیں کرتاہے بلکہ مزید تفتیش سے یہ معلوم ہوا ہےکہ وہ مسلمانوں کیخلاف مستقل ایک بڑا منصوبہ لیکر زمین پر کام کررہاہے، تاکہ ماب لنچنگ کرنے والے اور فساد کرنے والے افراد تیار کیے جاسکیں، اس کےعلاوہ یہ سوامی کھلےعام حکومت کی مرضي اور اجازت سے عوامی پروگرام کر کر کے الله کے رسولﷺ کی ناموس پر کیچڑ اچھال رہاہے اور ذاتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو داغدار کررہاہے، اب ذرا خود غور کیجیے، اور ایمانداری سے جواب دیجیے کہ کیا ایسی منصوبہ بند اسلام دشمن کارروائیوں کو کسی غلط فہمی اور نادانی کا نتیجہ کہہ سکتےہیں؟ چہ جائیکہ اسلام کی دعوت و اشاعت کا بیڑہ اٹھانے والے اب اس حد تک کہہ رہےہیں سوامی نرسنگھانند کی گستاخئ رسالتﷺ کے مجرم بھی بیچارے مسلمان ہی ہیں کیوں کہ مسلمانوں نے سوامی کو اسلام کی دعوت نہیں پہنچائی، یہی طبقہ کچھ پہلے یہ کہتے ہوئے پایا جاچکا ہے کہ ماب۔لنچنگ کرنے والے سَنگھی دہشتگرد اصل میں، غلط فہمی کا شکار ہیں اس لیے غلطی سے ماب۔لنچنگ کررہےہیں، کارِ دعوت کے علمبردار جب جذباتی ہوکر اپنے موقف والے دعوتِ اسلامی کے کام پر اس طرح کی باتیں پیش کرتےہیں تو وہ دعوت کے عظیم کاز کو مجروح کرتےہیں اور نئی نسل کو معروضیت سے دور کرنے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جب یہ سنگھیوں اور گستاخوں کے جرائم کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو مسلم۔نوجوانوں کو اپنا ٹارگٹ بناتے ہیں ان کے فطری غصے کو اور ان کی غیرت کا مذاق اڑاتے ہيں موقع کی مناسبت سے ترغیب اور الزام تراشی میں خاصا فرق ہے جسے ملحوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ مزید برآں، دیگر خادمان اسلام کے تئیں ان داعی حضرات کی زبان بسا اوقات بڑی غیر داعیانہ اور ملامت آمیز ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض دانشوروں اور کچھ تنظیموں کے مفکرین اور ارباب دانش جا بجا یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم جس فکر، نظریہ اور کام کو راجح قرار دے رہے ہیں وہ عین صواب ہے۔ وہ تقریر و تحریر میں بڑی شد و مد سے اسلام کے اُس طرز دعوت پر سارا زور بیان صرف کرتے ہیں جس کو انہوں نے اِس ماحول میں ضروری سمجھا۔ ان کی حرکات و سکنات اور زبان و قلم بارہا اس کی چغلی کھاتے ہیں کہ اس مخصوص انداز دعوت کے سوا ملت کے دیگر تمام کام ہیچ اور غیر ضروری ہیں مزید شرمناک حالت یہ ہوتی ہیکہ۔ یہ انٹلکچوئل حضرات مسلمانوں کو انتہاپسندی، غصہ، غیرت اور جذبات سے پرہیز کرنے کے لیے شدت سے نصیحت کرتےہیں لیکن جب کبھی اپنا موقف پیش کرتےہیں خواہ دعوت کا ہو یا کوئی اور تو یہ لوگ اپنی فہم کو ثابت کرنے کیلیے غیرت جذباتیت اور انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہی ہیں اور اگر مخالف رائے کوئی ثابت کرنا چاہے تو اس پر غصہ بھی اتارتے ہیں، داعیوں کی یہ نئی جذباتی پود اگر اپنے رویے میں اصلاح نہیں کرے گی اور دوسروں کو انتہاپسند/ Extremist, جذباتی، جوشیلا اور ہیچ قرار دیتی رہے گی تو مستقبل میں ان کے لیے اپنے اس رویے کے نقصانات کا شمار بھی مشکل ہو جائے گا۔ اگر پلٹ کر انہی حضرات کے ماضی کو دیکھا جائے تو صورت حال بالکل برعکس نظر آتی ہے آج جو لوگ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا مظالم پر صرف صبر کی تلقین کرتے ہیں وہی ماضی میں سَنگھی ظالموں کے خلاف بے صبری کا مظاہرہ کرتے تھے ہمیں بڑا تعجب ہوتاہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر کے بچوں کو ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ ظلم کے خلاف شور نہ مچاو تم سب مجرم ہو تم نے ہندوستان کے ہندؤوں تک دعوت نہیں پہنچائی حیرت ہوتی ہیکہ وہ لوگ جو گزشتہ کئی دہائی سے ہندوستان میں اسلامی کاز کے علمبردار تھے وہ آج پیدا ہونے والے مسلمان بچوں پر ناکامی کا ٹھیکرا پھوڑتے ہیں ۔ ضروری ہے کہ داعی کا دل جذبہ خیرخواہی سے معمور اور اصلاح کے لیے بے قرار ہو۔ ایک داعی کا بنیادی وصف جو اسے پوری دنیا کے کام کرنے والوں سے ممتاز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اندر انسانیت کو ابدی آگ سے بچانے کی تڑپ ہوتی ہے۔ دعوت اسلامی ایک مہتم بالشان عمل ہے جو انسانوں کو سیدھا انبیا علیہم السلام کے نقش قدم پر رکھ دیتا ہے۔ منتقم المزاجی داعی کی فطرت سے یکسر مغائر ہے۔ اس کا سینہ تودۂ برف کی طرح ٹھنڈا، زبان کوثر و تسنیم سے دھلی اور اس کا خوشگوار مزاج انسانیت کے لیے پرکشش ہو۔ اگر اس کے سینہ میں سب کو، ملت کے ہر ہر طبقے کو ہرحال میں یکساں طور پر ساتھ لے کر چلنے کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا تو انسانیت اس کے قدم بقدم نہیں چل سکے گی۔بھلا دعوت اسلام کی عظیم عمارت انسانی نفسیات کے برعکس طرز کو اختیار کرکے کیونکر تعمیر ہوسکتی ہے؟ مجھے اس کاز سے بنیادی طورپر اتفاق بھی ہے اور اس کے علمبرداروں سے ہمدردی اور محبت بھی اسلئے بارہا ان کی افراط و تفریط کو واضح بھی کرتاہوں لیکن اگر اب آپکی دعوتِ اسلامی میں، سوامی سادھو اور پنڈتوں کی اسلام دشمن کارروائیوں یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کی ذات پر حملوں کو بھی برداشت کرنے کی تعلیم ہے تو یاد رکھیے کہ آپ بہت جلد محصور ہوجائیں گے چار دیواروں اور چار میزوں کے درمیان، کیونکہ اسلام کو اسلامی فطرت کےخلاف لےکر چلنے کی کوئی کوشش آج تک کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے، اور آپ یہاں بیٹھ کر اگر عام مسلمانوں کو خواص کے جرم کا مجرم بنارہے ہیں تو یہ بھی چلنے والی چیز نہیں ہے، اللہ کی عدالت میں ماب۔لنچنگ کا مقتول مظلوم بن کر ہی اٹھایا جائےگا یہ تو بھارتیہ عدالتی سسٹم کے اثرات ہیں جو آپکو ہر ہر جگہ بیچاره مظلوم خود ظالم نظر آتاہے رسول اللّٰہﷺ پر زیادتی کرنے والا بھی مجرم نہیں لگتا، البتہ الله کی عدالت کو ایسا مت سمجھیے_

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو