اتر پردیش کے سنبھل میں سال 2024 کی پولیس فائرنگ کے کیس میں مسلم نوجوان کے حق میں سخت موقف اپنانے والے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھنشو سُدھیر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ حال ہی میں اعلیٰ عدالت کے جاری کردہ 14 ججوں کے تبادلوں کے احکامات میں شامل ہے۔
عدالت کے حکم کے مطابق، چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھنشو سُدھیر کو سنبھل سے منتقل کر کے سُلطانپور میں سول جج کی حیثیت سے تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی جگہ چاندوسی میں تعینات سول جج آدتیہ سنگھ کو سنبھل کا نیا چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا ہے۔
یہ تبادلہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسی ماہ جج سُدھیر نے سنبھل میں پولیس فائرنگ کے ایک واقعے میں متعدد پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ واقعہ نومبر 2024 کا ہے، جب چاندوسی کی تاریخی شاہی جامع مسجد کے عدالت کے حکم سے کیے گئے سروے کو لے کر علاقے میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ سروے کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، جس میں پانچ مسلم نوجوان ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
اسی دوران ایک مسلم نوجوان عالم پولیس فائرنگ میں زخمی ہوا۔ عالم کے والد یامین نے عدالت میں درخواست دائر کی اور الزام لگایا کہ ان کا بیٹا مسجد کے قریب ریڑھی پر رسک اور بسکٹ بیچ رہا تھا، تب پولیس نے بھیڑ پر فائرنگ کی۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھنشو سُدھیر نے یامین کی درخواست قبول کرتے ہوئے سابق سرکل آفیسر انوج چودھری، کوتوالی انچارج انوج تومر اور 15–20 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ زخمی نوجوان کو گولی لگی ہے اور یہ جانچ کا موضوع ہے کہ گولی کس نے چلائی۔ عدالت نے مزید کہا کہ قتل کے ارادے جیسے سنگین جرم میں پولیس یہ دلیل نہیں دے سکتی کہ وہ صرف اپنی سرکاری ڈیوٹی انجام دے رہی تھی۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم کے بعد سنبھل پولیس نے کہا کہ وہ اس حکم کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔ چند ہی دن بعد جج کا تبادلہ بھی ہو جانا بحث کا موضوع بن گیا۔
دریں اثنا، عید سے پہلے سنبھل پولیس نے عوامی نماز اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کیں، جس پر مقامی مسلم کمیونٹی میں ناخوشی دیکھی گئی۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ پولیس افسران کے خلاف درج مقدمہ پر آگے کیا کارروائی ہوتی ہے اور اعلیٰ عدالت میں کیس کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔