سنبھل کی چیف جسٹس میجسٹریٹ وِبھاشُھ سدھیر نے ایک سنگین حکم جاری کرتے ہوئے سابق کمانڈنگ آفیسر اور موجودہ فیروزآباد کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوج چودھری سمیت بارہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس فائرنگ میں ایک مسلم نوجوان کو گولی ماری تھی۔
یہ حکم نو جنوری دو ہزار چھبیس کو جاری کیا گیا جب عدالت نے ایک عرضی پر سماعت کی، جس میں نوجوان کے والد نے پولیس کے خلاف شکایات درج کروائی تھیں۔
متاثرہ خاندان کے مطابق نوجوان عالم، عمر ۲۴ سال، جو اپنے خاندان کی روزی روٹی کے لیے شاہی جامع مسجد کے علاقے میں بسکٹ فروخت کرتا تھا، چوبیس نومبر دو ہزار چون میں پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا تھا۔ زخم کی وجہ سے اسے پولیس سے چھپ کر علاج کروانا پڑا۔ والد کی عدالت میں گواہی کے بعد عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ ایف آئی آر کب درج ہوگی، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی پہلے ہی عدالتی تحقیقات ہو چکی ہیں، اور پولیس ہائی کورٹ میں اس حکم کے خلاف قانونی چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ واقعہ چوبیس نومبر دو ہزار چوبیس کو شاہی جامع مسجد کے باہر ہجوم اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران پیش آیا تھا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اس فائرنگ سے ان کا بیٹا شدید زخمی ہوا اور علاج چھپ کر کروانا پڑا، لیکن عدالت کی سماعت کے بعد معاملہ نیا موڑ اختیار کر گیا ہے۔
اگلے اقدامات:
ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔ پولیس اس حکم کو چیلنج کرنے کے لیے ہائی کورٹ میں عدالتی نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔