پریس آزادی کی عالمی تنظیم آر.ایس.ایف نے کہا ہے کہ ہندو رائٹ ونگ ویب سائٹ اوپ انڈیا بھارت میں آزاد میڈیا اور صحافیوں کو بدنام کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔آر.ایس.ایف کی رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان اوپ انڈیا نے 314 سے زائد مضامین شائع کیے جن میں صحافیوں اور آزاد نیوز میڈیا کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر آن لائن ہراسانی اور ٹرولنگ کی لہر دوڑ گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان مضامین کی اشاعت کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ٹرولنگ، دھمکیاں اور منظم ہراسانی کی لہر دیکھی گئی۔ کئی بار یہ مہمات ٹیلیگرام جیسے پلیٹ فارمز پر فعال گروپس کے ذریعے منظم کی گئیں، جن میں سے کچھ گروپس میں تقریباً 30,000 ارکان شامل تھے۔
آر.ایس.ایف نے پانچ اہم صحافیوں—عارفہ خانم شیروانی، محمد زبیر، راج دیپ سَر دَیسائی، رویش کمار اور رعنا ایوب—پر مرکوز 43 مضامین کا تجزیہ کیا۔ ان میں سے 32 مضامین کے شائع ہونے کے بعد آن لائن ہراسانی کی لہر میں اضافہ ہوا۔ غیر ملکی صحافیوں جیسے ہننا ایلس-پیٹرسن (دی گارڈین) اور اوانی ڈایس (اے.بی.سی نیوز) کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
آر.ایس.ایف نے بھارتی عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ سائبر ہراسانی مہمات کی تحقیقات کی جائیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایک (سابقہ ٹویٹر) سے درخواست کی کہ وہ نفرت انگیز مواد اور ہراسانی پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کریں۔ ساتھ ہی آر.ایس.ایف نے گوگل سے کہا ہے کہ وہ اوپ-انڈیا کو ملنے والی ایڈ- لسینس اشتہاری آمدنی کا جائزہ لے، کیونکہ اس طرح کی مالی معاونت ایسے پلیٹ فارمز کو فروغ دیتی ہے جو صحافیوں اور آزاد میڈیا کو نشانہ بناتے ہیں۔
آر.ایس.ایف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اور منظم آن لائن ٹرولنگ و ہراسانی صحافیوں کی حفاظت اور پریس کی آزادی کے لیے سنجیدہ خطرہ ہے اور اس کے اثرات سے بھارت میں میڈیا کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔