ضلع روہتاس کے نوہٹہ تھانہ علاقہ میں نو سالہ بچے کے خلاف درجِ فہرست ذات و درجِ فہرست قبائل (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کا معاملہ منظرِ عام پر آیا ہے۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد مقامی سطح پر بحث و مباحثہ تیز ہو گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نوہٹہ علاقے میں بچوں کے درمیان باہمی تکرار اور مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس سلسلے میں 7 دسمبر 2025 کو ایک سرپرست کی جانب سے تھانہ میں درخواست دی گئی، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں چار بچوں سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ الزامات مارپیٹ اور گالی گلوچ سے متعلق بتائے گئے ہیں۔
معاملہ اُس وقت موضوعِ بحث بنا جب نامزد ملزمان میں شامل ایک بچے کی عمر تقریباً نو سال پائی گئی اور اس کے خلاف بھی ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کر دی گئیں۔
جمعرات 19 فروری کو ایک کمسن کو کشور انصاف کونسل (جووینائل جسٹس بورڈ) کے روبرو پیش کیا گیا۔ بورڈ کے مجسٹریٹ امت کمار پانڈے اور رکن تیج بلی سنگھ نے بچے کی عمر 9 سے 10 سال کے درمیان قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر میں درج تفصیلات پر حیرت کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کے متعدد خانے خالی پائے گئے اور کسی بھی ملزم، خواہ بچہ ہو یا بالغ، کی عمر درج نہیں کی گئی تھی۔ کونسل نے بچے کو اس کے سرپرست کے حوالے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے نوہٹہ تھانہ انچارج سے 24 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی ہے۔ کونسل نے یہ بھی واضح کیا کہ جواب غیر تسلی بخش ہونے کی صورت میں اعلیٰ حکام کو مطلع کیا جائے گا۔
نوہٹہ تھانہ انچارج دیواکر کمار نے کہا کہ تھانہ میں موصول ہونے والی درخواست کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ان کے مطابق درخواست میں مارپیٹ اور گالی گلوچ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
تھانہ انچارج نے بتایا، ’’متاثرہ فریق کی جانب سے درخواست موصول ہونے پر مقدمہ درج کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ تفتیش کے دوران جو حقائق سامنے آئیں گے، انہی کی بنیاد پر آئندہ کارروائی کی جائے گی۔‘‘
فی الحال معاملہ زیرِ تفتیش ہے۔ کشور انصاف کونسل کی ہدایت کے بعد انتظامی سطح پر آئندہ پیش رفت پر نگاہیں مرکوز ہیں۔