دلت پی۔ایچ۔ڈی اسکالر اور امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے رہنما روہت ویمولا کی موت کو دس برس مکمل ہونے پر 17 جنوری کو حیدرآباد کی سنٹرل یونیورسٹی میں ان کی دسویں شہادت منائی جائے گی۔ اس موقع پر طلبہ تنظیمیں اور سماجی انصاف کی تحریکیں روہت کی موت کو “ادارہ جاتی قتل” قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر انصاف اور جواب دہی کے مطالبے کو نمایاں طور پر اٹھائیں گی۔
اسی سلسلے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کے خلاف قانون سازی کی مانگ کو آگے بڑھاتے ہوئے روہت ایکٹ مہم کی کرناٹک ٹیم کی جانب سے تیار کردہ “روہت ایکٹ کا عوامی مسودہ” سنٹرل یونیورسٹی کیمپس میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
تقریب کا آغاز ہفتہ کی دوپہر دو بجے ویلی واڑا (نارتھ شاپ کمپلیکس) میں عوامی مسودہ پیش کرنے کے ساتھ ہوگا۔ اس کے بعد شام چار بجے ساوتری بائی پھولے آڈیٹوریم میں روہت ایکٹ کے مسودے کی باضابطہ رونمائی کی جائے گی۔ دیر رات یونیورسٹی کیمپس میں مشعل جلوس بھی نکالا جائے گا۔
یومِ شہادت کے تحت روہت ویمولا کی والدہ رادھیکا ویمولا دوپہر دو بجے ویلی واڑا میں واقع روہت استوپ پر گل پوشی کریں گی۔
مسودے کی رونمائی کے پروگرام میں سینئر امبیڈکر وادی رہنما اور وکیل وی مرُدُلا، نیشنل لاء یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اشنا سنگھ اور لیکچرر ہُلی کُنٹے مورتی موجود ہوں گے۔
عوامی پروگرام میں گجرات کے رکنِ اسمبلی اور کانگریس رہنما جگنیش میوانی، دھرم سماج پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر وِشارَدھن مہاراج، ممتاز اینٹی کاسٹ دانشور وی گیتا، وکیل وی رگھوناتھ اور ایڈووکیٹ جے بھیم راؤ، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر بھنگیا بھکیا، آئی آئی ٹی بمبئی میں خودکشی کرنے والے درشن سولنکی کے والد رمیش بھائی این سولنکی، اور 2019 میں مبینہ ذات پرستانہ اور اسلاموفوبک ہراسانی کے بعد خودکشی کرنے والی ڈاکٹر پائل تڈوی کی والدہ عابدہ سلیم تڈوی بھی شریک ہوں گی۔
تقریب کے دوران اَدَوی آرٹس کلیکٹو کی جانب سے پرائی اور اوپّاری جیسی ثقافتی پیشکشیں بھی پیش کی جائیں گی۔
امبیڈکر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا “ہمارے بھائی روہت ویمولا کے ادارہ جاتی قتل کو ایک دہائی گزر چکی ہے، لیکن اس کے ذمہ دار آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہ انصاف سے محرومی کے دس برس ہیں۔ آئیے بڑی تعداد میں متحد ہو کر روہت اور ان کے خاندان کے لیے انصاف کی اس سیاسی اور قانونی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ 17 جنوری 2016 کو روہت ویمولا کی موت نے ملک بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کے مسئلے کو مرکزِ توجہ بنا دیا تھا۔ ایک دہائی گزرنے کے باوجود روہت ویمولا ایکٹ کا مطالبہ پورا نہیں ہو سکا ہے، تاہم طلبہ اور سماجی تنظیمیں اسے قومی سطح پر نافذ کرانے کے عزم کے ساتھ اپنی تحریک جاری رکھنے کی بات کہہ رہی ہیں۔