دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے کار دھماکے کی تحقیقات میں سکیورٹی ایجنسیوں نے بڑے “وائٹ کالر” دہشت گرد نیٹ ورک کے انکشاف کا دعویٰ کیا ہے، جس کا دائرہ جموں و کشمیر سے قومی دارالحکومت تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی سلسلے میں ہریانہ کی ڈاکٹر پریانک شرما کو اننت ناگ میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر شرما روہتک کی رہائشی ہیں اور جنوبی کشمیر کے ایک سرکاری میڈیکل کالج میں تعینات تھیں۔ ان کے کرائے کے رہائش گاہ سے موبائل فون اور سم کارڈ ضبط کیے گئے ہیں، جنہیں فارنزک تحقیقات کے لیے بھیجا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا نام ڈاکٹر عدیل کی تفتیش کے دوران سامنے آیا۔ عدیل پہلے GMC اننت ناگ میں کام کرتا تھا۔ اس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ کچھ افراد اس نیٹ ورک کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کر سکتے تھے۔
تحقیقات کے اہلکار کہتے ہیں کہ یہ ماڈیول روایتی دہشت گردی سے مختلف ہے۔ اس میں ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد شامل ہیں جو اپنے پیشے کو نیٹ ورک کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اگرچہ ڈاکٹر شرما پر کسی پرتشدد واقعے میں براہِ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، تاہم فارنزک تفتیش اور پوچھ گچھ جاری ہے۔ انہیں حراست میں لینے کے بعد کچھ دیر بعد رہا کر دیا گیا۔
جموں و کشمیر پولیس نے بتایا کہ یہ کیس بہت پیچیدہ ہے اور ابھی نیٹ ورک کے صرف چند رکن سامنے آئے ہیں۔ اہلکاروں کو شبہ ہے کہ اور بھی لوگ اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور یہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی اب صرف فعال جہادی لڑاکوں تک محدود نہیں، بلکہ پیشہ ور اور تعلیم یافتہ طبقے میں بھی پھیل رہی ہے۔