انصاف ٹائمس ڈیسک
پنجاب کے لدھیانہ اور آس پاس کے علاقوں میں ستلج ندی میں طغیانی اور شدید بارشوں کے سبب پیدا ہونے والے سیلابی بحران کے دوران، امارتِ شریعہ کی ریلیف ٹیم نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
امیرِ شریعت، مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت پر روانہ ہونے والی اس ٹیم کی قیادت نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی اور معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی کر رہے ہیں۔ 13 ارکان پر مشتمل اس وفد میں سینئر علما، طلباء اور ماہر نمائندگان شامل ہیں۔
ٹیم نے جمعہ کی نماز کے بعد لودھیانہ کے آس پاس ستلج ندی کے کنارے جا کر پانی کے تیز بہاؤ اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مشاہدہ کیا۔ رپورٹوں کے مطابق لاکھوں ایکڑ زمین اور کھیت پانی میں ڈوب چکے ہیں، کئی مکانات بہہ گئے ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت روزگار بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری امداد کی کمی نے ریلیف کام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
امارتِ شریعہ کی ٹیم جلد ہی امرتسر اور دیگر متاثرہ اضلاع کا دورہ کرے گی تاکہ نقصان کا مکمل تخمینہ لگایا جا سکے اور متاثرین کی بحالی اور امداد میں مدد فراہم کی جا سکے۔
ٹیم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کھلے دل سے سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔ پانی کے کم ہونے پر لوگ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن ان کا سارا سامان بہ چکا ہے، مویشی تلف ہو گئے ہیں اور کھیت تباہ ہو چکے ہیں۔
امیرِ شریعت نے حکومت سے بھی فوری ریلیف اور بحالی کے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امارتِ شریعہ اسپتال کی جانب سے ڈاکٹر یاسر حبیب کی قیادت میں طبی ٹیم بھی متاثرہ علاقوں میں طبی امداد کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔
ہیڈکوارٹر سے ناظمِ اعلیٰ مولانا مفتی محمد سعید رحمان قاسمی مسلسل ٹیم کے رابطے میں ہیں اور امیرِ شریعت بھی متاثرین تک زیادہ سے زیادہ مدد پہنچانے کے ہدایات دے رہے ہیں۔ عوام سے بھی ریلیف فنڈ میں تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مدد پہنچائی جا سکے۔