
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ (این ای سی) نے مالابار ہاؤس، ملپورم، کیرالہ میں منعقدہ اپنے اجلاس میں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ آئینِ ہند میں مذکور سیکولر و جمہوری اقدار کی جانب واپس لوٹے۔بی جے پی حکومت میں، سال 2016 سے بھارت کو سیولرزم اور شمولیت کے آئینی اصولوں سے دور ہٹایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ہندوتوا ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا ہماری قومی تحریک سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
این ای سی کی جانب سے پاس کردہ ایک قرارداد میں اجلاس نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں ملک کے عوام کے آس پاس کی زمینی حقیقتوں کا دور دور تک کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ این ای سی نے کہا، ”76ویں یومِ آزادی پر ملک سے وزیر اعظم کا خطاب انتہائی مایوس کن رہا، جس میں عوام کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ مہنگائی، غریبی، بے روزگاری اور بڑھتی فرقہ وارانہ نفرت نے بیشتر شہریوں کی زندگی کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑی جمہوری ملک کی حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے، ہونا یہ چاہئے تھا کہ وزیر اعظم مصنوعی اور کھوکھلی لفّاظی کرنے کے بجائے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور ملک کی صورتحال کو بدلنے کے لئے اقدامات کرتے۔“ قرارداد میں یہ کہا گیا کہ سال 2047 تک بھارت کو ترقی اور ارتقاء میں دنیا کی رہنمائی کرنے والا سب سے طاقتور ملک بنانے کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک کہ معاشرے میں برداشت اور رواداری کی فضا قائم نہ ہو اور حکومت شمولیت کے راستے پر نہ چلے۔
دوسری قرارداد میں پاپولر فرنٹ کی این ای سی نے ان ہندوتوا لیڈروں اور سنتوں پر حکومت کی خاموشی اور سردمہری پر سوال اٹھائے، جنہوں نے کھلے طور پر ہندو راشٹر کے دستوری مسودے کی تیاری کا اعلان کیا ہے، جو کہ موجودہ آئینی جمہوریہ کے خلاف ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ”یہ آئینِ ہند اور ملک کے جمہوری اداروں کے لئے کھلی دھمکی ہے، جس کے خلاف صحیح قانونی کاروائی ہونی چاہئے تھی۔ بدقسمتی سے، اس کے پیچھے جو لوگ ہیں انہیں نہ تو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ میڈیا ٹرائل کا۔ میڈیا کا ایک طبقہ گذشتہ کچھ ہفتوں میں مسلم تنظیموں پر نام نہاد اسلامی حکومت قائم کرنے کا الزام لگا کر انہیں بدنام کرنے اور فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کا کام کرتا رہا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں بھی انہی فرضی اور مضحکہ خیز الزامات کو لے کر متعدد ریاستوں میں مسلم نوجوانوں کی مسلسل گرفتاریاں کر رہی ہیں۔“
ایک دوسری قرارداد میں، پاپولر فرنٹ کی این ای سی نے تنظیم کی چھ ماہ طویل مہم ’جمہوریہ بچاؤ‘ کی کامیابی پر ملک بھر کے عوام کو مبارکباد دی۔
پاپولر فرنٹ کی این ای سی نے کہا ”پاپولر فرنٹ کی تاریخ میں اب تک کی اس سب سے طویل مہم کا مقصد ملک میں دستور کو کمزور کرنے کی جاری کوششوں کے متعلق عوام کے درمیان بیداری لانا تھا۔ سیکولر جمہوری اقدار کے دشمن ملک کو تاناشاہی اور جنونیت کی سمت میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے رضاکاران و کارکنان عوامی اجتماعات، نکڑ ملاقاتوں، گھر گھر مہم اور دیگر پروگراموں کے ذریعہ مختلف ریاستوں میں عوام کے بیچ پہنچے۔ لاکھوں لوگوں تک پہنچ کر جمہوری جدوجہد کے لئے ان کے اندر عزم و حوصلہ پیدا کرنے میں یہ مہم بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔“