پٹنہ کے چتر گپت نگر تھانہ علاقے میں گرلز ہاسٹل میں نیٹ کی تیاری کرنے والی 18 سالہ طالبہ کی مشکوک موت نے پورے بہار میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ مقتولہ جہان آباد ضلع کی رہائشی تھی اور میڈیکل داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے پٹنہ میں ہاسٹل میں مقیم تھی۔
طالبہ کو 6 جنوری کو اپنے کمرے میں بے ہوش حالت میں پایا گیا اور علاج کے دوران 11 جنوری کو اس کی موت واقع ہو گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں اسے نیند کی گولیوں کے زیادہ استعمال سے جوڑا گیا تھا، لیکن تازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طالبہ کے جسم پر کئی جگہوں پر چوٹیں، خراشیں اور حساس اعضا پر شدید زخم ملے ہیں، جو ممکنہ طور پر کسی جھگڑے یا کشمکش کے دوران لگے ہوں۔ خاص بات یہ ہے کہ طالبہ حیض کے دوران تھی، جس سے کچھ تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں، لیکن اس سے جنسی زیادتی کے امکان کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔ رپورٹ کے بعد پولیس کی تحقیقات کی سمت مکمل طور پر بدل گئی ہے۔
بہار پولیس کے اعلیٰ افسر نے اہل خانہ کی درخواست پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، جو پٹنہ کے چتر گپت نگر تھانہ، کیس نمبر 14/26 کی جامع جانچ کرے گی۔
پٹنہ کے اعلیٰ پولیس افسر اس ٹیم کی تحقیقات کی نگرانی کریں گے اور روزانہ اپ ڈیٹ لیں گے۔ وزیر داخلہ نے بھی معاملے کا نوٹس لیا اور خصوصی ٹیم کے قیام کی اطلاع دی۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کو دوسری رائے کے لیے پٹنہ کے معروف طبی ادارے بھیجا جائے گا تاکہ کسی بھی تکنیکی غلطی یا جانبداری کا خدشہ دور کیا جا سکے۔
پولیس ہاسٹل اور آس پاس کے علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور کال ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہے۔ تفتیش میں طالبات، ہاسٹل عملہ اور آس پاس کے افراد سے پوچھ گچھ شامل ہے۔ ایس ایس پی نے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ تحقیقات کے دوران تمام شواہد دکھائے جائیں گے تاکہ کسی بھی شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔
طالبہ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ہاسٹل انتظامیہ نے بروقت اطلاع نہیں دی اور معاملے کو دبانے کے لیے 10-15 لاکھ روپے کی پیشکش کی۔ اہل خانہ پولیس پر اعتماد نہیں رکھتے اور اعلیٰ تحقیقات کی مانگ کر رہے ہیں۔
معاملے نے سیاسی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔ بعض سیاسی رہنماؤں نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے انصاف دلانے کا وعدہ کیا اور پولیس کی تحقیقات کے عمل پر سوال اٹھائے۔
سوشل میڈیا پر یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور لوگ طالبات کی حفاظت اور گرلز ہاسٹلز میں سیکیورٹی کے انتظامات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اب سب کی نظریں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات، طبی ماہرین کی رائے اور عدالت کی کارروائی پر ہیں۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ قصورواروں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور غیر جانبدارانہ انصاف یقینی بنایا جائے گا۔
یہ معاملہ اب صرف ایک طالبہ کی موت تک محدود نہیں رہا، بلکہ بہار میں لڑکیوں کی حفاظت اور ہاسٹلز کی نظامت پر ایک بڑا سوال کھڑا کر چکا ہے۔