ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں بڑھتی ہوئی صوتی آلودگی کے معاملے پر پٹنہ ہائی کورٹ نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضلع کے تمام تھانہ انچارجز کو صوتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات جاری کریں۔
یہ حکم سورندر پرساد کی جانب سے دائر عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کے دوران جسٹس راجیو رائے کی سنگل بنچ نے دیا۔ عدالت نے کہا کہ صوتی آلودگی (ضابطہ و کنٹرول) قواعد، 2000 پر ہر حال میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ قواعد کے تحت رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاؤڈ اسپیکر اور تیز آواز والے ساؤنڈ سسٹم کے استعمال پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے باوجود شادی بیاہ، مذہبی تقریبات، مورتی وسرجن اور جلوسوں میں مقررہ حد سے زیادہ آواز کا استعمال مسلسل کیا جا رہا ہے، جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹمپو اور ای رکشاؤں میں تیز اور قابلِ اعتراض گانوں کا بجایا جانا، دیر رات پٹاخے پھوڑنا اور طے شدہ ڈیسیبل حد سے زیادہ شور عام شہریوں، بالخصوص خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔
سرکاری وکیل پرشانت پرتاپ نے عدالت کو بتایا کہ صوتی آلودگی سے متعلق شکایات کے لیے شہری اب 112 ڈائل سروس کا سہارا لے سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈی جی پی دفتر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 112 سروس 1883 پولیس گاڑیوں کے ساتھ پورے بہار میں چوبیسوں گھنٹے فعال ہے۔
عدالت نے 112 ڈائل نظام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ شہری بغیر تھانے گئے اور اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔
عدالت کی جانب سے مقرر کردہ عدالتی معاون (امی کس کیوری) سینئر ایڈووکیٹ اجے نے بتایا کہ اگرچہ کچھ تھانہ علاقوں میں کارروائی کی گئی ہے، تاہم قدم کنواں، پیربہور، روپاسپور، بدھا کالونی اور گاندھی میدان سمیت کئی علاقوں میں اب بھی صوتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام تھانوں کو سخت ہدایات جاری کرنے پر زور دیا۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ شیوِندر کشور نے داناپور علاقے میں تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی گرد و غبار کا مسئلہ اٹھایا اور بتایا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
ہائی کورٹ نے آلودگی کنٹرول بورڈ کو پٹنہ میں فضائی آلودگی، بالخصوص گرد و غبار پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی۔