پٹنہ ہائی کورٹ نے نابالغ سے زیادتی کے سنگین معاملے میں سزا یافتہ کو راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے اس کی فوجداری اپیل خارج کر دی۔ جسٹس آلوک کمار پانڈے کی سنگل بنچ نے جتیندر کمار عرف کنکن کی جانب سے دائر فوجداری اپیل پر سماعت کے بعد نچلی عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیا۔
پٹنہ کے ایڈیشنل سیشن جج-6 سہ اسپیشل جج (پوکسو) نے دیگھا تھانہ کاند نمبر 39/2022 میں ملزم کو 20 جنوری کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد 24 جنوری کو عدالت نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 363 کے تحت چار سال کی سخت قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ کی اضافی سادہ قید کا بھی حکم دیا گیا تھا۔
سزا یافتہ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ میں فوجداری اپیل دائر کی تھی۔ اپیل کی سماعت کے دوران عدالت نے معاملے سے جڑے تمام حقائق، شواہد اور عدالتی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ نے دیگھا تھانہ کے ایس ایچ او کو دیے گئے تحریری بیان میں بتایا تھا کہ 19 جنوری 2022 کو ان کی 15 سالہ نابالغ بیٹی صبح تقریباً 9 بجے کوچنگ کے لیے گھر سے نکلی تھی، لیکن وقت پر واپس نہیں لوٹی۔ اس کے بعد اہلِ خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم لڑکی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
تحریری شکایت کی بنیاد پر دیگھا تھانہ میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 363 اور 366(اے) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کی، گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد دفعات 363، 366(اے) اور 366 کے تحت چارج شیٹ داخل کی۔ بعد ازاں نچلی عدالت نے سنجیدہ لیتے ہوئے معاملہ ٹرائل کے لیے سیشن کورٹ کو منتقل کر دیا۔
نچلی عدالت نے ملزم کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات کے ساتھ ساتھ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت بھی الزامات طے کیے۔ ملزم نے خود کو بے قصور بتایا، تاہم ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات سے الزامات کی تصدیق ہو گئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے متاثرہ لڑکی کو چپس اور کولڈ ڈرنک کا لالچ دیا اور کولڈ ڈرنک میں نشہ آور مادہ ملا کر اسے پلایا۔ اس کے بعد متاثرہ کو غلط کام کے لیے مجبور کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ نچلی عدالت کا فیصلہ شواہد اور قانون کے عین مطابق ہے۔ جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔