“متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے دباؤ کے درمیان پاکستان کو بڑی ریلیف کی امید: سعودی عرب اور قطر کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی امداد، زرمبادلہ کے بحران میں کمی کے اشارے”

ایک ترک نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور قطر پاکستان کو پانچ ارب ڈالرز کی ممکنہ مالی امداد فراہم کریں گے، جسے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان پر اس وقت سب سے بڑا فوری مالی دباؤ متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالرز کی ادائیگی کا ہے، جو اپریل کے آخر تک مکمل کرنا ضروری ہے۔ یہ رقم ماضی میں حاصل کردہ مالی معاونت اور ڈپازٹس سے متعلق ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر یہ ادائیگی بروقت نہ کی گئی تو پاکستان کی مالی ساکھ، بیرونی سرمایہ کاری کے اعتماد اور کرنسی کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں سعودی عرب اور قطر کی جانب سے ممکنہ مالی امداد کو پاکستان کے لیے ایک اہم سہارا سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ امداد مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہے، جن میں مرکزی بینک میں ڈپازٹس، نرم قرضے ، اور توانائی کے شعبے میں ادائیگیوں کی مؤخر ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔”