پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ۲۰ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ کے گروپ‑اے میچ میں بھارت کے خلاف پندرہ فروری کو حصہ نہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کھیل کی دنیا اور شائقین میں شدید تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ یہ فیصلہ سرکاری ہدایت کے تحت کیا گیا ہے اور ٹیم کے کھلاڑی اپنی آزاد مرضی سے اس میں شامل نہیں ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے کھیل کے اصول اور مقابلے کی روح کے خلاف ہے۔ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس حوالے سے باضابطہ وضاحت طلب کی ہے۔
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا کہ وہ کونسل کے بیان پر عمل کریں گے اور اس معاملے میں مزید کوئی تبصرہ اس وقت کیا جائے گا جب واضح ہدایات موصول ہوں گی۔
قوانین کے مطابق، اگر پاکستان بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو اسے دو پوائنٹس کا نقصان ہوگا اور بھارت کو فاورفٹ کے ذریعے دو پوائنٹس مل جائیں گے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی نیٹ رن ریٹ پر بھی اثر پڑے گا اور گروپ کی پوزیشن میں تبدیلی ممکن ہے۔
پٹنہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بہار کے بی جے پی صدر سنجے سراوگی نے پاکستان کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا، “پاکستان کی کیا ہمت ہے؟ آپریشن سندور میں ہمارے بہادر فوجیوں نے پاکستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کیا، اور اب وہ بھارت کا سامنا کرنے سے ڈر رہا ہے۔”
سنجے سراوگی نے مرکزی بجٹ ۲۰۲۶ کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ بجٹ غریب، نوجوان، کسان اور خواتین کے حق میں ہے اور ترقی یافتہ بھارت ۲۰۴۷ کے مقصد کے حصول کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ طویل عرصے سے سیاسی کشیدگی کے باعث نہیں کھیلے گئے ہیں۔ پاکستان کا یہ فیصلہ بھی اسی سیاسی اور کھیل کے تناؤ کی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کونسل نے تمام رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھیں اور ٹورنامنٹ کی کھیل کی روح کو برقرار رکھیں۔