“آئین کے خلاف نفرت کی سیاست”: آسام کے وزیرِ اعلیٰ کے بیانات پر اویسی کا جوابی حملہ، معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ فرقہ وارانہ اور توہین آمیز بیانات پر ملک کی سیاست میں شدید ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد سے رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے وزیر اعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “کسی بھی برادری کو خوف زدہ کر کے یا اس کی تذلیل کر کے حکومت نہیں چلائی جا سکتی”، اور اس نوعیت کی سیاست آئینِ ہند کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔

اویسی نے کہا کہ آسام میں بنگالی نژاد مسلمانوں، جنہیں مقامی طور پر ‘میا’ کہا جاتا ہے، کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ “ریاست میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اس کا ملبہ میا مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ سیاست نہیں بلکہ نفرت پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔”

اویسی نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک آئینی عہدے پر فائز شخص کسی مخصوص برادری کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتا ہے تو اس کا سماج پر کتنا خطرناک اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن مسلمانوں کو ‘میا’ کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ ہندوستان کے شہری ہیں۔ ان کے آباء و اجداد کو برطانوی دورِ حکومت میں آسام لایا گیا تھا اور وہ دہائیوں سے وہاں کی زمین پر محنت مزدوری کر کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ کے ایک مبینہ بیان کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں آٹو رکشا ڈرائیور کو مقررہ کرائے سے کم رقم دینے کی بات کہی گئی تھی۔ اویسی نے اسے “غریبوں اور اقلیتوں کے خلاف اقتدار کے غرور کی علامت” قرار دیا۔

یہ تنازع اب قانونی رخ بھی اختیار کر چکا ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کر کے آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات کو غیر آئینی اور نفرت انگیز قرار دیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک وزیر اعلیٰ کی جانب سے اس طرح کے تبصرے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔

آسام میں بنگالی نژاد مسلمان پہلے ہی سماجی اور معاشی مسائل سے دوچار ہیں۔ شہریت، ووٹر لسٹ اور شناخت سے متعلق امور میں انہیں اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں وزیر اعلیٰ سطح سے آنے والے بیانات اس برادری میں خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

اویسی کے سخت بیانات اور سپریم کورٹ میں دائر کی گئی عرضی کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آسام میں ‘میا’ مسلمانوں سے متعلق جاری تنازع اب صرف ریاستی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ یہ معاملہ آئین، اقلیتی حقوق اور جمہوری اقدار کے ایک بڑے امتحان کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اورنگ آباد: لڑکوں سے ملاقات پر پابندی کے بعد چار لڑکیوں نے خودکشی کی، ایک بچی زندہ بچ گئی

بہار کے اورنگ آباد ضلع کے ہسپورا تھانہ علاقے کے سید پور گاؤں میں پانچ

مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ اسمبلی میں گرما گیا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا

پپو یادو کی گرفتاری پر مانجھی کا بیان: نیٹ طالبہ کے قتل کی سخت مذمت، گرفتاری پرانے مقدمے میں

مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپّو

قومی صدر بننے کے بعد پہلی بار بہار پہنچے نتن نبین، پٹنہ میں کہا “سیاست میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں”

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد نتن نبین پہلی مرتبہ بہار پہنچے۔

گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے ‘میا’ مسلمانوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیل، ہمنت بسوا سرما کے بیانات سے تنازع

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بدھ کے روز بنگالی نسل کے مسلمانوں

مسلمانوں پر فائرنگ کا منظر: ہنگامے کے بعد اسام بی جے پی کے پیج سے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما کا ویڈیو ہٹا دیا گیا

اسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے آفیشیل ایکس (سابقہ ٹویٹر) ہینڈل پر ہفتہ کو