اویسی پہنچے بہار، کل سے ہوگی ’’سیمانچل انصاف یاترا‘‘

انصاف ٹائمس ڈیسک

بہار اسمبلی انتخابات سے قبل سیمانچل کی سیاست میں تیزی آ گئی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی منگل کو بہار پہنچ گئے ہیں۔ وہ بدھ 24 ستمبر سے اپنی ’’سیمانچل انصاف یاترا‘‘ کا آغاز کریں گے۔

یہ یاترا سیمانچل کے چار اضلاع — ارریہ، پورنیہ، کٹیہار اور کشن گنج — سے گزرے گی۔ یاترا کا آغاز کشن گنج کے رُوئی دھانسا میدان سے ہوگا۔ اویسی کے ساتھ پارٹی کے بہار صدر و رکن اسمبلی اخترالایمان اور دیگر سینئر رہنما بھی موجود رہیں گے۔

پارٹی ترجمان عادل حسن نے بتایا کہ یاترا کے دوران اویسی عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے، عام لوگوں سے ملاقات کریں گے اور تنظیمی میٹنگوں میں بھی شریک ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے دونوں نے سیمانچل کو نظرانداز کیا ہے، لیکن AIMIM سیمانچل کے عوام کو انصاف اور ترقی دلانے کے لیے میدان میں اتری ہے۔‘‘

گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اویسی کی پارٹی کو سیمانچل میں بڑی کامیابی ملی تھی اور پانچ نشستوں پر جیت حاصل ہوئی تھی، لیکن بعد میں چار اراکین اسمبلی آر جے ڈی میں شامل ہو گئے۔ اس بار بھی پارٹی نے مہاگٹھ بندھن سے اتحاد کی کوشش کی، مگر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔

راہل گاندھی کی ’’ووٹرس ادھیکار یاترا‘‘ اور تیجسوی یادو کی ’’بہار ادھیکار یاترا‘‘ کے بعد اب اویسی کی انٹری سے سیمانچل کی سیاست میں نیا موڑ آنے کا امکان ہے۔ مسلم اکثریتی اس خطے میں AIMIM پہلے ہی اپنی مضبوط گرفت قائم کر چکی ہے۔

اب دیکھنا ہوگا کہ اویسی کی ’’سیمانچل انصاف یاترا‘‘ اس انتخابی جنگ میں کس طرح کے نئے سیاسی سمیکرن کو جنم دیتی ہے۔

وندے ماترم کے تمام اشعار کی لازمی قرأت غیر آئینی اور ناقابل قبول: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کی اس حالیہ نوٹیفکیشن پر سخت

ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں پٹنہ میں احتجاج، دیپانکر بولے: “چار لیبر کوڈ واپس لینے ہوں گے”

مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر منعقدہ ملک گیر عام ہڑتال کی حمایت میں جمعرات

بہار میں 9.16 لاکھ پی ایم آواس نامکمل، مرکز سے فنڈز کا انتظار

بہار اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بدھ کے روز وزیرِ اعظم آواس یوجنا (دیہی) کے

بہار میں ایس.ڈی.پی.آئی کو نئی قیادت: این یو عبدالسلام ریاستی انچارج مقرر، تنظیمی توسیع کو ملے گی رفتار

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے بہار میں تنظیمی ڈھانچے کو