
پٹنہ (سیف الرحمٰن/انصاف ٹائمس) بی پی ایس سی کے 68 ویں پی. ٹی امتحان کے پیپر لیک و امتحان کے رد ہونے کے معاملے کو لیکر بہار میں سیاست تیز ہوگئی ہے کہیں احتجاجوں کا معاملہ ہے تو کہیں تیکھے بیانوں کا دور- آج بہار کے تمام اضلاع میں بھاکپا مالے کی طلباء تنظیم آل انڈیا سٹوڈنٹس اسوسییشن اور جن ادھیکار پارٹی کے یووا مورچہ و چھاتر جن شکتی پریشد نے مظاہرے کر اور وزیر اعلیٰ کے پتلے جلا کر لیک کے ایماندارانہ جانچ و ایماندارانہ کارروائی کی مانگ کیا تو وہیں بہار میں اپوزیشن کے لیڈر و راشٹریہ جنتا دل کے نیتا تیجسوی یادو نے بیان دیا کہ ” جب بی پی ایس سی جیسے ادارے کا پیپر لیک ہو رہا ہے تو باقی کا کیا ہوگا؟ پیپر لیک کو لیکر اسمبلی میں آواز اٹھایا لیکن سرکار نے نہیں سنا- باہر سے امتحان دینے آنے والے طلباء سے بہار کی بہت بدنامی ہوتی ہے” تیجسوی نے مانگ کیا کہ ان طلباء نے کڑی محنت کر دور دراز سے آکر امتحان دیا ہے لیکن امتحان رد ہوگیا – اب سرکار اُن بے روزگاروں کی معاشی بھرپائی کیلئے تمام طلباء و طالبات کو 05 ہزار کا معاوضہ دے- اعلیٰ عہدہ داروں کی جوابدہی طے ہو اور مجرموں کی فوری گرفتاری ہو تاکہ مستقبل میں دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو”- اپوزیشن کی دوسری بڑی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس کے بہار صوبائی صدر مدن موہن جھا نے لکھا کہ “بی پی ایس سی کا پیپر لیک ہوتا ہے- بی پی ایس سی کا امتحان رد ہوتا ہے- سالوں سے محنت کر رہے طلباء کی محنت کو ایک جھٹکے میں برباد کر دیا جاتا ہے- جانچ کمیٹی بنیگی ! 2-4 بلی کے بکروں کی تلاش ہوگی باقی طاقت ور لوگوں کو بچا لیا جائیگا-لیکن اصلی بلی اس تعلیمی سسٹم کی چڑھا دی جائیگی جس کے شکار وہ ہونگے جو سالوں سے ایک نوکری کے انتظار میں بس اُمّید کے بھروسے محنت کیے جا رہے ہیں”- ان کے علاوہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر حملہ کا بہانہ تلاشتے دکھنے والے لوجپاء سپریمو چراغ پاسوان بھی تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ”بہار میں بہار لوک سیوا آیوگ کا پرچہ لیک ہونے کا حادثہ فکر کا موضوع ہے- ریاست میں اتنا بڑا پرچہ لیک ہونا سرکار کی ناکامی کو دکھاتا ہے- آخر کب تک بہار کے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ایسے ہی کھلواڑ ہوتا رہیگا؟ آج اس حادثہ نے پورے ملک میں بہار کو بدنام کردیا ہے – کیا اس کا کوئی جواب ہے آپ کے پاس نتیش کمار جی؟”- اس معاملے کو لیکر سوشل ڈیمکریٹک پارٹی آف انڈیا بہار کے صوبائی صدر شمیم اختر نے بھی انصاف ٹائمس سے بات کرتے ہوئے نتیش سرکار کو ہر سطح پر ناکام بتاتے ہوئے بی پی ایس سی پیپر لیک معاملے کو طلباء و طالبات کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ بتایا اور مانگ کیا کہ تمام طلباء و طالبات کو انکا خرچ دیا جائے ساتھ ہی ایماندارانہ جانچ کروا کر مجرموں کو سخت سزا دیکر آئندہ ایسے واقعات کے ہونے کو ناممکن بنایا جائے- ساتھ ہی شمیم اختر نے عوام سے کہا کہ اس طرح تعلیمی سسٹم سے ہورہے کھلواڑ کو لگام دینا بےحد ضروری ہے اور اس کےلئے آپ تمام کو آگے آنا ہوگا