اڈیشہ میں اسموک لیس تمباکو کا بڑھتا استعمال سنگین عوامی صحت بحران
اڈیشہ میں اسموک لیس تمباکو (چبانے والے تمباکو) کا بڑھتا ہوا استعمال ریاست کے لیے ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ریاست کی 42 فیصد سے زائد بالغ آبادی کسی نہ کسی شکل میں چبانے والے تمباکو کا استعمال کر رہی ہے، جو قومی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست میں منہ، گلے اور چہرے کے کینسر کے معاملات میں تیزی سے اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔
صورتِ حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے تمام اقسام کے تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کی پیداوار، پروسیسنگ، پیکجنگ، ذخیرہ اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمۂ صحت نے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
محکمۂ صحت کے افسران کے مطابق، یہ اقدام سال 2013 میں گٹکھا پر پابندی کے بعد اب تک کی سب سے سخت کارروائی ہے۔ اس سے قبل کمپنیاں تمباکو اور پان مسالہ الگ الگ پیکٹوں میں فروخت کر کے پابندی سے بچ جاتی تھیں، جنہیں صارفین ملا کر استعمال کرتے تھے۔ اب اس طرح کی تمام مصنوعات اور ان کی فروخت پر مکمل روک لگا دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت مکیش مہالنگ نے کہا کہ پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ ڈرگ کنٹرول محکمہ، پولیس انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر اس کی نگرانی کریں گے۔ تعلیمی اداروں کے 100 گز کے دائرے میں تمباکو مصنوعات کی فروخت مکمل طور پر ممنوع رہے گی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محکمۂ صحت کے مطابق، عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) چبانے والے تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کو کینسر کی بڑی وجوہات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اوڈیشہ میں ان کا استعمال مسلسل بڑھ رہا تھا۔
نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-5) کے مطابق، جہاں مردوں میں تمباکو کے استعمال کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، وہیں خواتین میں اس کا استعمال بڑھ کر 26 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کا براہِ راست اثر زچگی کی صحت اور نومولود بچوں پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب، گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے (2019) کے مطابق ریاست میں 6.2 فیصد طلبہ کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کر رہے ہیں۔
ریاست کے 19 قبائلی اکثریتی اضلاع میں تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کا استعمال نسبتاً زیادہ پایا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، کل صارفین میں سے تقریباً 45 فیصد دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ پابندی سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات ایکٹ 2003، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کے تحت نافذ کی گئی ہے۔ نابالغوں کو تمباکو مصنوعات فروخت کرنے پر سات سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا التزام ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024-25 کے دوران کوٹپا کی خلاف ورزی کے 6,952 معاملات میں 11 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 11,500 سے زیادہ اسکولوں اور سیکڑوں کالجوں میں تمباکو کنٹرول سے متعلق بیداری پروگرام چلائے جا چکے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق، پابندی کے ساتھ ساتھ بیداری اور کونسلنگ پروگراموں کو بھی مزید تیز کیا جائے گا۔