قومی تفتیشی ایجنسی نے بدھ کے روز ریاست کیرالہ میں ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے متعلق مختلف مقدمات کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں متعدد مقامات پر ایک ساتھ بھرپور چھاپے مارے۔ ایجنسی نے نو سے زائد مقامات پر تلاشی کے دوران اہم دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور مبینہ طور پر مشکوک مواد ضبط کیا۔
قومی تفتیشی ایجنسی کے اہلکاروں کے مطابق یہ کارروائی ستمبر دو ہزار بائیس میں درج ایک مبینہ جہادی سازش اور مجرمانہ منصوبہ بندی کے مقدمے کے تحت کی جا رہی ہے، جس میں الزام ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے بھارت میں پرتشدد جہاد کے نظریات پھیلانے، نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے اور ملک کو اندرونی انتشار میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے رہنما اور کارکن نوجوانوں کو ہتھیاروں کی تربیت دینے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے مالی وسائل جمع کرنے میں ملوث تھے۔ قومی تفتیشی ایجنسی کے مطابق تنظیم نے مختلف ڈھانچے قائم کیے، جن میں ‘رپورٹرز ونگ’، ‘فزیکل اور ہتھیاروں کی تربیتی ونگ’ اور ‘خدمت اور ہٹ ٹیمز’ شامل تھے، جو تنظیم کے مبینہ منفی ایجنڈے کو عملی شکل دے رہے تھے۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھاپوں کے دوران پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کیمپس اور تربیتی مراکز میں جسمانی تربیت اور یوگا کی آڑ میں مبینہ ہتھیاروں کی تربیت جاری تھی، جبکہ مخصوص ‘ہٹ ٹیمز’ کو خاص افراد کو نشانہ بنانے اور انہیں ختم کرنے کے لیے تربیت دی جا رہی تھی۔
قومی تفتیشی ایجنسی نے کہا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور ایجنسی پورے نیٹ ورک اور اس کے ممکنہ مفرور ارکان تک پہنچنے کے لیے مزید شواہد جمع کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر دو ہزار بائیس میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت پابندی عائد کی گئی تھی۔ متعدد سماجی، سیاسی اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس پابندی کو بے بنیاد اور سیاسی مفادات کے تحت قرار دیا، اور اسے مسلم اور دیگر مظلوم کمیونٹیز کی آواز کو دبانے کی سازش کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔