بہار میں نیٹ کی تیاری کر رہی ایک طالبہ کی موت کے معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی رہنما رابڑی دیوی کے الزامات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سمراٹ چودھری نے ان سے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں کسی وزیر یا وزیر کے بیٹے کی شمولیت ہے تو اس کا نام عوام کے سامنے واضح طور پر بتایا جائے۔
سمراٹ چودھری نے جمعہ کو میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو 24 گھنٹوں کے اندر متعلقہ شخص کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی جانچ کو لے کر سنجیدہ ہے اور کسی بھی مجرم کو، چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، بخشا نہیں جائے گا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے رابڑی دیوی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر اس طرح کے الزامات لگانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اس سے تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے پاس کوئی پختہ معلومات ہیں تو انہیں تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
اس سے قبل رابڑی دیوی نے نیٹ طالبہ کی موت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے بہار حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں پردہ پوشی کی جا رہی ہے اور اس میں کسی بااثر شخص، ممکنہ طور پر کسی وزیر یا اس کے بیٹے، کا کردار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائی اور انتظامی رویے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، نیٹ کی تیاری کر رہی طالبہ کو پٹنہ کے ایک ہاسٹل میں بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا تھا۔ بعد ازاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ اہلِ خانہ نے موت کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور جنسی استحصال کے خدشے کا اظہار بھی کیا ہے۔
معاملے پر بڑھتے دباؤ کے درمیان ریاستی حکومت نے تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کرنے کی سفارش کی ہے۔ وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ اب تک تحقیقات میں کئی اہم سوالات کے جوابات نہیں مل سکے ہیں۔
سمراٹ چودھری کے چیلنج کے بعد ریاست کی سیاست میں بیان بازی مزید تیز ہو گئی ہے۔ ایک طرف حکومت سخت کارروائی کے دعوے کر رہی ہے، تو دوسری جانب اپوزیشن اس معاملے میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
نیٹ طالبہ کی موت کا یہ معاملہ اب محض ایک فوجداری تفتیش تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ بہار کی قانون و انتظام کی صورتحال اور سیاسی جوابدہی سے جڑا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔