نیشنل ہیرالڈ سے جڑے مشہور منی لانڈرنگ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم رخ اختیار کرتے ہوئے کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سے جواب طلب کیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس رویندر دودجا نے تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے۔
عدالت نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، سمن دوبے، سیم پٹروڈا، ینگ انڈین، ڈوٹیکس مرچنڈائز پرائیویٹ لمیٹڈ اور سنیل بھنڈاری کو ہدایت دی ہے کہ وہ 12 مارچ تک اپنا تحریری جواب داخل کریں۔ اسی روز معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
ای ڈی نے ہائی کورٹ سے رجوع اس ٹرائل کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے کیا ہے، جس میں اس کی چارج شیٹ پر سنجشت لینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ کسی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج نہیں ہوا اور اس کی شروعات بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی نجی شکایت سے ہوئی تھی، اس لیے اس پر مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
ای ڈی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ نے قانون کی محدود تشریح کی اور اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق معاملات میں تفتیش اور استغاثہ کا طریقۂ کار مختلف ہوتا ہے۔ ایجنسی نے ہائی کورٹ سے ٹرائل کورٹ کے حکم پر روک لگانے اور چارج شیٹ پر سنجشت لینے کی راہ ہموار کرنے کی درخواست کی ہے۔
نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کانگریس پارٹی مسلسل اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیتی رہی ہے اور الزام لگاتی رہی ہے کہ مرکزی حکومت تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اب دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی اگلی سماعت سے یہ طے ہوگا کہ اس معاملے میں قانونی لڑائی کس موڑ پر پہنچتی ہے اور ای ڈی کی عرضی پر عدالت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔