مظفرپور: کشن کمار نے اپنے دوست پنکُو کمار کے ساتھ مل کر محبوبہ زویا پروین کا قتل کیا، پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا

مظفرپور کے سکرا تھانہ میں 18 سالہ نوجوان لڑکی کی قتل نے علاقے میں ہلچل مچا دی، پولیس نے 48 گھنٹے میں گرفتار کر کے عدالتی حراست میں بھیجا

واقعے کا سلسلہ

لڑکی کے گھر والوں نے 30 مارچ کو اسے لاپتہ قرار دیا۔ پولیس کی تلاش کے بعد اس کا لاش بیجھا چوڑ علاقے سے برآمد ہوا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ لڑکی کو اس کے محبوب کشن کمار (عرف کرشن) نے ہوٹل میں ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

محبت اور خوف کی کہانی

پولیس کے مطابق کشن اور متاثرہ لڑکی زویا پروین کے درمیان تقریباً تین سال سے محبت کا تعلق تھا۔ کشن، جو ٹینٹ کا کام کرتا ہے، اس دن زویا کو ہوٹل لے گیا۔ جب زویا کے گھر والوں نے کال کی، کشن ڈر گیا کہ لڑکی گھر جا کر تعلق کی حقیقت بتا دے گی، جس سے اس کی بدنامی ہو سکتی تھی۔

قتل کا طریقہ

کشن نے اپنے دوست پنکُو کمار کو بلایا اور دونوں نے مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی۔ ملزمان نے زویا کو سنسان جگہ لے جا کر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ قتل کے بعد لاش وہاں چھوڑ کر ملزمان فرار ہو گئے۔

پولیس کی کارروائی

پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے بھارتیہ دَنڈ سنہیتا کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ جرم ثابت ہونے پر عمر قید یا موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

سماجی پیغام

یہ واقعہ نوجوان محبت کے تعلقات، سماجی دباؤ اور ذاتی خوف کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ پولیس نے وارننگ دی کہ ایسے معاملات میں ہوشیاری اور سمجھداری ضروری ہے، تاکہ ذاتی جھگڑے پرتشدد شکل نہ اختیار کریں۔

پولیس حکام نے کہا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ پر ایس ڈی پی آئی کی سخت مخالفت، “آمرانہ اور غیر آئینی” قرار دیا

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے مجوزہ غیر ملکی چندہ ضابطہ ترمیمی بل ۲۰۲۶ کے

کانپور میں تنتر-منتر کے نام پر حیوانیت: نو بیاہتا خاتون کے برہنہ پوجا اور جنسی استحصال کے سنگین الزامات

اتر پردیش کے کانپور سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس

ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ: اقوام متحدہ کے نمائندے محمد صفا کے الزامات سے عالمی تشویش میں اضافہ

لبنانی نژاد انسانی حقوق کے کارکن محمد صفا نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سنگین

چھ سال بعد پہلی عبوری راحت: بھائی کی شادی میں شرکت کے بعد شرجیل امام دوبارہ تہاڑ جیل لوٹ گئے

تقریباً چھ برس سے جیل میں قید جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور