از قلم: اسلم رحمانی
جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی(جے این یو)نئی دہلی
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مظفرپور محض ایک شہر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک زندہ تہذیبی روایت کا نام ہے؛ وہ روایت جس میں علم کی شمع بھی فروزاں رہی، ادب کی خوشبو بھی بسی، تجارت کی روانی بھی قائم رہی اور سیاست و سماج کے نشیب و فراز بھی اس کے دامن سے وابستہ رہے۔ یکم جنوری( مظفرپور کے بانی صفدر علی مظفر جنگ خاں اٹھارہویں صدی کے اوائل میں مغلیہ عہد کے ایک بااثر امیر اور انتظامی منصب دار تھے۔
تاریخی و سرکاری ماخذات کے مطابق انہوں نے دریائے بُڑھی گنڈک کے اطراف ایک نئی آبادی کی بنیاد رکھی، جو ابتدا میں انتظامی اور فوجی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ ان کی انتظامی بصیرت اور سرپرستی کے نتیجے میں یہ آبادی رفتہ رفتہ ایک منظم قصبے میں تبدیل ہوئی۔یہ شہر اپنے بانی صفدر علی مظفر جنگ خاں کے نام پر مظفرپور کہلایا۔ لفظ پور سنسکرت الاصل ہے جس کے معنی شہر یا بستی کے ہیں، یوں مظفرپور کا مفہوم ہوا: مظفر جنگ کی بستی۔ یہی نام بعد میں ضلع کے لیے بھی اختیار کیا گیا، جو یکم جنوری 1875ء میں قدیم ترہت سے باضابطہ طور پر ایک الگ انتظامی ضلع قرار پایا۔)مظفرپور کا 151واں یومِ تاسیس اسی تہذیبی تسلسل کی یاد دہانی ہے، جس نے اس شہر کو محض جغرافیہ نہیں بلکہ تاریخ بنا دیا۔
انیسویں صدی کا نصفِ آخر برصغیر کی تعلیمی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1857ء کے بعد کے سیاسی، سماجی اور فکری بحران نے اہلِ علم کو اس بات پر آمادہ کیا کہ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے قوم اپنی شناخت، شعور اور بقا کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ چنانچہ ایک طرف دینی تشخص اور مذہبی روایت کے تحفظ کے لیے 1866ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا، جو سہارنپور کے قصبہ دیوبند سے اٹھ کر پورے ہندوستان میں دینی و فکری بیداری کی علامت بنا۔ دوسری طرف جدید علوم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کے لیے 1875ء میں ایم اے او کالج علی گڑھ کی بنیاد رکھی گئی، جو 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں ایک ہمہ گیر تعلیمی ادارہ بن گیا۔اسی تعلیمی بیداری کی بازگشت بہار کے علمی مرکز مظفرپور میں بھی سنائی دیتی ہے، جہاں 1889ء میں مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم اور 1899ء میں ایل ایس کالج کے قیام نے اس خطے کو دینی اور عصری تعلیم کے سنگم سے روشناس کرایا۔ یوں دیوبند، علی گڑھ اور مظفرپور کے یہ ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں تھے بلکہ انیسویں صدی کی اس ہمہ گیر تعلیمی تحریک کی مختلف کڑیاں تھے، جن کا مقصد بدلتے ہوئے حالات میں قوم کی فکری، تہذیبی اور علمی تعمیر نو تھا۔جامع العلوم کے بانی اور پہلے مہتمم حافظ رحمت اللہ احقر مظفرپوری تھے، جن کی بصیرت نے اس ادارے کو محض ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک فکری مرکز بنایا۔ پہلے صدر مدرس مولانا عبد الواسع سعدپوری کی علمی قیادت نے اس ادارے کے تعلیمی وقار کو استحکام بخشاـ ابتدا میں یہ ادارہ خادم العلوم کے نام سے موسوم تھا، مگر وقت کے ساتھ اس کی شناخت مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم کے نام سے اس قدر مستحکم ہوئی کہ یہ نام خود علم و وقار کی علامت بن گیا
جامع العلوم کی امتیازی شان یہ رہی کہ یہاں نہ صرف قرآن و حدیث کے علوم بلکہ علومِ عقلیہ، بالخصوص منطق و فلسفہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ قاری صدیق احمد باندویؒ(بانی جامعہ عربیہ ہتھوڑہ باندہ، اترپردیش)تقریباً 1941ء میں یہاں علم منطق کی تحصیل کے لیے تشریف لائے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جامع العلوم کا علمی فیض کس قدر دور رس اثرات رکھتا تھا۔اس ادارے کے فیض یافتگان میں وہ نفوسِ قدسیہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے علم و عمل سے دین و ملت کی بے لوث خدمت کی۔ مولانا بشارت کریمؒ نے 1892ء میں اسی مدرسہ میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ اسی طرح قاری عبدالمجید مضطر مظفرپوریؒ، مولانا اختر الزماں رحمانی (سابق مہتمم)، مولانا ادریس ذکا گڑھولوی، مولانا یعقوب، قاری علیم اللہؒ، قاری نسیم احمدؒ، قاری اطہرؒ جیسے نامور اساتذہ و طلبہ اس ادارے سے وابستہ رہے، جن کی خدمات کا دائرہ صرف مظفرپور تک محدود نہ رہا۔
عصرِ حاضر میں بھی جامع العلوم کی علمی روایت پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے خلیفہ، دارالعلوم دیوبند مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا اشتیاق احمد قاسمی مسندِ درسِ حدیث کو زینت بخشے ہوئے ہیں۔ اسی طرح مولانا و مفتی اقبال احمد قاسمی تفسیر و حدیث کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ صدر مفتی کے منصب پر فائز ہیں۔ موجودہ مہتمم مولانا آل حسن قاسمی کی قیادت میں ادارہ علمی استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ مولانا صد الحسن رحمانی سمیت کئی با صلاحیت اساتذہ علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔جامع العلوم کی علمی فضا اگر آج بھی وقار، سنجیدگی اور فکری توازن کی خوشبو سے معطر ہے تو اس میں ان اہلِ علم کا بڑا حصہ ہے جنہوں نے درس گاہ کو محض تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ تہذیبِ فکر کی آماجگاہ بنا دیا۔ انہی درخشاں ناموں میں مولانا اشتیاق احمد قاسمی اور مفتی اقبال احمد قاسمی شامل ہیں۔دو ایسی علمی شخصیات جن کی فکر کی گہرائی اور تدریس کی سادگی نے نسلوں کی فکری تشکیل کی ہے۔مولانا اشتیاق احمد قاسمی کی علمی پہچان ان کے توازنِ فکر اور استقامتِ علمی میں مضمر ہے۔ بھلے ہی مولانا اشتیاق احمد قاسمی اب علیل ہیں اور پہلے جیسی جسمانی فعالیت نہیں رہی، تاہم ان کی علمی بصیرت آج بھی اہلِ علم، بالخصوص درس و تدریس سے وابستہ افراد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ان کی شخصیت میں انکسار اور علمی وقار کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ درسِ حدیث میں ان کا اسلوب نہ خطیبانہ جوش کا محتاج ہے اور نہ پیچیدہ اصطلاحات کا اسیر؛ وہ متن کے ساتھ سیاق، روایت کے ساتھ حکمت اور نقل کے ساتھ فہم کی ایسی ہم آہنگی قائم کرتے ہیں کہ طالب علم کے ذہن میں حدیث محض محفوظ نہیں ہوتی بلکہ راسخ ہو جاتی ہے۔ان کی فکری جہت کی سب سے نمایاں خصوصیت اعتدال ہے۔وہ روایت سے وابستگی رکھتے ہوئے زمانے کے سوالات سے چشم پوشی نہیں کرتے۔ ان کے یہاں تقلید جامد نہیں بلکہ شعوری وابستگی ہے، اور اجتہادی ذوق بے مہار نہیں بلکہ اصول کا پابند۔ یہی سبب ہے کہ ان کے زیرِ سایہ تربیت پانے والے طلبہ شدت پسندی یا فکری انتشار کا شکار نہیں ہوتے بلکہ متوازن سوچ کے حامل بنتے ہیں، جو دین کی ترجمانی بھی کر سکتے ہیں اور زمانے سے مکالمہ بھی۔دوسری جانب مفتی اقبال احمد قاسمی جامع العلوم کی فکری زندگی کا وہ پہلو ہیں جہاں علم و عمل ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں۔ بحیثیت استاذِ تفسیر و حدیث اور صدر مفتی، ان کی شخصیت میں تدریس کی سنجیدگی اور افتاء کی ذمہ داری یکجا ہو گئی ہے۔ ان کا درس طلبہ کو محض نصوص سے واقف نہیں کراتا بلکہ فقہی بصیرت، عملی شعور اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس بھی عطا کرتا ہے۔مفتی اقبال احمد قاسمی کی فکری جہت کا امتیاز یہ ہے کہ وہ مسائل کو مجرد فقہی خانوں میں مقید نہیں کرتے بلکہ ان کے سماجی، اخلاقی اور انسانی پہلوؤں کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا اسلوبِ تدریس سوال کو دبانے کے بجائے سنوارنے کا خوگر ہے؛ وہ طالب علم کو سوچنے کی جرأت دیتے ہیں، مگر سوچ کو شریعت کی حدود میں رہنے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں۔ دارالافتاء کے ذریعے ان کی عملی رہنمائی نے طلبہ کو یہ سبق دیا ہے کہ علم اگر معاشرے کی رہنمائی نہ کرے تو وہ محض کتابی سرمایہ بن کر رہ جاتا ہے۔وہیں منبر و محراب پر ان کی شعلہ بیانی سامعین کے دلوں میں دین کی حرارت اور عمل کا جذبہ بیدار کر دیتی ہے۔ ان کی تقریر محض الفاظ کا سیلاب نہیں بلکہ فکر کی رہنمائی، دردِ ملت کی ترجمانی اور اخلاقی بیداری کی صدا ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی خطابت وقتی جوش پیدا کرنے کے بجائے دیرپا اثرات چھوڑتی ہے اور سننے والے کو سوچنے، سنبھلنے اور سنورنے پر آمادہ کرتی ہے۔مفتی اقبال احمد قاسمی کی یہ خطیبانہ صلاحیت جامع العلوم کی دعوتی روح کی ترجمان ہے، جہاں علم کو گوشوں تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ سماج کے قلب تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر جملہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جب علم اخلاص سے ہم آہنگ ہو جائے تو وہ خطابت کی صورت میں بھی ہدایت کا چراغ بن جاتا ہے
جامع العلوم محض درسِ نظامی تک محدود نہیں، بلکہ یہاں حفظ و قرأت، درس نظامی،کمپیوٹر، اور بنیادی انگریزی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دارالافتاء اور دارالقضاء کا باقاعدہ نظام قائم ہے۔ مفتی قیصر علی قاسمی مظفرپور کے قاضیِ شریعت ہیں، اور یہ دارالقضاء اگرچہ امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے زیرِ انتظام ہے، مگر اس کا دفتر جامع العلوم کے احاطے میں قائم ہونا اس ادارے کی سماجی و شرعی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔مظفرپور کے یومِ تاسیس کے موقع پر جب ہم شہر کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو جامع العلوم چندوارہ ایک ایسے روشن باب کی صورت سامنے آتا ہے جس کے بغیر اس شہر کی علمی شناخت مکمل نہیں ہو سکتی۔ تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ایک مختصر مضمون میں جامع العلوم کی مکمل خدمات اور اس سے وابستہ تمام نفوسِ قدسیہ کا احاطہ ممکن نہیں؛ یہ موضوع خود ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے۔مگر اتنا کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جس شہر میں جامع العلوم جیسا ادارہ ہو، وہ شہر محض آباد نہیں رہتا بلکہ تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔اور مظفرپور اسی زندہ تاریخ کا نام ہے
جامع العلوم کی سب سے درخشاں خصوصیت اس کا وہ ہمہ گیر تعلیمی نظام ہے جس میں علم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ سیرت و کردار کی تشکیل کا وسیلہ بنتا ہے۔ یہاں تعلیم کا مقصد صرف ذہن کو منور کرنا نہیں بلکہ نفس کو مہذب، فکر کو متوازن اور کردار کو صالح بنانا ہے۔ اسی جامع تصورِ تعلیم نے اس ادارے کو محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک تربیت گاہ بنا دیا ہے۔جامع العلوم میں علومِ دینیہ کی تدریس روایت اور حکمت کے حسین امتزاج کے ساتھ انجام پاتی ہے۔ درسِ نظامی کے مراحل میں طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر اور سیرت کے ساتھ ساتھ منطق و فلسفہ جیسے علومِ عقلیہ سے آراستہ کیا جاتا ہے، تاکہ ان کی فکر جمود کا شکار نہ ہو بلکہ دلیل، استدلال اور اعتدال کے اوصاف سے مزین رہے۔ اساتذہ کی نگرانی میں علمی ضبط، درسی پابندی اور فکری شائستگی کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے کہ طالب علم کتاب سے پہلے ادب اور علم سے پہلے ذمہ داری سیکھتا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیتِ اخلاق جامع العلوم کے تعلیمی مشن کا جوہر ہے۔ یہاں طلبہ کی روزمرہ زندگی نظم و ضبط، سادگی، باہمی احترام اور دینی شعور کے سانچے میں ڈھالی جاتی ہے۔ اساتذہ کی شفقت، بزرگوں کی روایات اور ادارے کی فضا مل کر ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جہاں طالب علم محض قاری یا عالم نہیں بنتا بلکہ معاشرے کے لیے ایک باکردار اور بااعتماد رہنما بن کر ابھرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جامع العلوم میں حفظ و قرأت کے ساتھ کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم اور ابتدائی انگریزی زبان کی واقفیت بھی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ طلبہ زمانے کے بدلتے ہوئے مزاج سے ناآشنا نہ رہیں۔ دارالافتاء اور دارالقضاء سے وابستگی طلبہ کو عملی فقہی مسائل، سماجی تنازعات اور شرعی رہنمائی کے میدان میں براہِ راست تربیت فراہم کرتی ہے، جو انہیں محض نظری عالم نہیں بلکہ عملی رہبر بناتی ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ موجودہ عہد میں دینی تعلیمی ادارے مختلف سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجوں سے دوچار ہیں، اور جامع العلوم بھی اس عمومی صورتِ حال سے یکسر مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، تعلیمی وسائل میں کمی یا دورِ جدید کی پیچیدگیوں کے باوجود یہ ادارہ اپنے اصل مشن—یعنی علمِ نافع، تربیتِ صالحہ اور ملت کی فکری رہنمائی—میں سو فیصد کامیاب نظر آتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل وہ باعمل، سنجیدہ اور باشعور فارغین ہیں جو آج ملک و بیرونِ ملک دین و ملت کی خدمت میں مصروف ہیں۔یوں جامع العلوم چندوارہ مظفرپور موجودہ عہد میں بھی ملتِ اسلامیہ کے لیے محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ سرمایۂ افتخار ہے—ایسا سرمایہ جو وقت کی گرد میں مدھم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور میں اپنی معنوی روشنی سے راستہ دکھاتا ہے۔تاہم جامع العلوم کی علمی عظمت کسی ایک شخصیت کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ ان تمام اساتذہ کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے جو دن رات خاموشی سے علم کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ ہر استاد اپنے اپنے فن میں مہارت رکھتے ہوئے طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت میں مصروف ہے۔ کوئی نصاب کی باریکیوں میں رہنمائی کرتا ہے، کوئی تلفظ و تجوید کی اصلاح میں عمر کھپا دیتا ہے، اور کوئی طلبہ کے کردار کو سنوارنے میں اپنی شفقت قربان کر دیتا ہے۔ یہ سب مل کر جامع العلوم کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس میں علم کے ساتھ ادب اور صلاحیت کے ساتھ صالحیت لازم سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح جامع العلوم کے خدام،منتظمین، معاونین، خدامِ مسجد، باورچی، خدمت گار اور دیگر کارکنان اس ادارے کے وہ خاموش معمار ہیں جن کے بغیر علمی قصر کی اینٹ بھی اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔ ان کی محنت، دیانت اور خدمت گزاری نے ادارے کے نظم کو استحکام بخشا ہے۔ یہ وہ ہاتھ ہیں جو نظر نہیں آتے، مگر انہی کے دم سے درس گاہ کی نبض رواں رہتی ہے اور طلبہ یکسوئی کے ساتھ علم حاصل کر پاتے ہیں
مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور اور شہرِ مظفرپور کی علمی و تہذیبی معنویت پر نظر ڈالنے کے بعد یہ حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یہ ادارہ اور یہ شہر ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم نے جہاں دینی شعور، اخلاقی اقدار اور فکری بالیدگی کو فروغ دیا، وہیں مظفرپور نے اس ادارے کو اپنے تاریخی، سماجی اور تہذیبی تناظر میں پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا۔ علم و عمل کی اس مشترکہ روایت نے نہ صرف افراد کی تعمیر کی بلکہ پورے خطے کی فکری سمت متعین کی۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ شہرِ مظفرپور کی علمی روح اور تہذیبی شناخت کا روشن استعارہ ہے، جس کی روشنی آج بھی نئی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔