بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو نظریاتی طور پر اپنے ہندوتوا اور اکثریت پر مبنی سیاست کے لیے جانی جاتی ہے، میں مسلم قیادت کی موجودگی ہمیشہ سے ایک گہرا سیاسی معمہ رہی ہے۔ اس کی حیثیت محض ایک علامتی سیاسی نشان کی رہی ہے جو ملک کی سیکولر شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے دکھایا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اس کا مقصد مسلم مفادات کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی توازن قائم رکھنا رہا ہے۔
بی جے پی کے مسلم رہنماؤں کی تاریخ تضادات سے بھری ہوئی ہے—جہاں انہیں اعلیٰ عہدے تو دیے گئے، مگر مسلم کمیونٹی کے حقوق اور مسائل پر ہمیشہ پارٹی لائن کے تابع رکھا گیا۔ ان رہنماؤں کا اصل کام بین الاقوامی سطح پر پارٹی کی شبیہ بہتر بنانا اور داخلی طور پر اقلیتی ووٹوں میں رسائی حاصل کرنا رہا ہے، نہ کہ مسلم فلاح و بہبود کے لیے آواز اٹھانا۔
ابتدائی دور: سکندر بخت اور بی جے پی کا مسلم چہرہ
بی جے پی کے ابتدائی دور میں سب سے نمایاں مسلم رہنما سکندر بخت تھے، جو پارٹی کے بانی اراکین میں شمار کیے جاتے ہیں اور اٹل بہاری واجپئی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے واجپئی حکومت میں مرکزی وزیرِ خارجہ جیسے اہم عہدے پر کام کیا اور طویل عرصے تک راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف بھی رہے۔
اس کے علاوہ عارف بیگ جیسے رہنما، جو جنتا پارٹی کے دور میں وزیرِ مملکت رہے، بھی بی جے پی سے وابستہ رہے۔ اس دور میں پارٹی قیادت نے اپنی شدت پسند نظریات اور جمہوری قبولیت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی۔
تاہم جلد ہی واضح ہو گیا کہ بی جے پی میں مسلم رہنماؤں کو جو اعلیٰ عہدے ملے وہ عوامی ووٹوں سے نہیں بلکہ راجیہ سبھا یا صدارتی نامزدگیوں کے ذریعے حاصل ہوئے تھے۔
نظریاتی دباؤ اور “آر ایس ایس کی بولی”
واجپئی دور کے بعد بی جے پی میں مسلم قیادت ان چہروں تک محدود ہو گئی جو میڈیا میں مہارت رکھتے تھے اور پارٹی کے نظریاتی موقف سے کبھی انحراف نہیں کرتے تھے۔
اس دور میں مختار عباس نقوی، جو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور، پارٹی کے نائب صدر اور ترجمان رہ چکے ہیں، اور سید شاہنواز حسین، جو کم عمر ترین مرکزی وزیر (کوئلہ اور شہری ہوابازی) بنے، پارٹی کے بڑے مسلم چہرے تھے۔
ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ، جنہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی، مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور بنیں، جبکہ معروف صحافی ایم جے اکبر کو وزیرِ مملکت برائے خارجہ بنایا گیا۔
ان تمام رہنماؤں میں ایک قدرِ مشترک یہ رہی کہ انہوں نے کبھی بھی ہجوم کے تشدد (Mob Lynching)، شہریت ترمیمی قانون (CAA) یا اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق جیسے حساس مسلم مسائل پر پارٹی مؤقف سے اختلاف نہیں کیا۔ ان کا سارا زور حکومت کی ترقیاتی اسکیموں اور “اقلیتوں کی شمولیت” کے سرکاری بیانیے کو مضبوط کرنے پر رہا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ برادری کی آواز کے بجائے آر ایس ایس کی نظریاتی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں۔
علامتی سیاست اور ووٹ کی حکمتِ عملی
2014 میں نریندر مودی کے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی میں مسلم نمائندگی کی نوعیت مزید محدود ہو گئی۔ پارلیمانی انتخابات میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا، اور ان کی موجودگی صرف تنظیمی یا ریاستی سطح تک محدود رہ گئی۔
آج کے دور میں سید ظفر الاسلام جیسے رہنما، جو راجیہ سبھا کے رکن بھی بنے، میڈیا میں پارٹی کے موقف کو بھرپور انداز میں پیش کرتے ہیں۔
بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کی قیادت جمال صدیقی کے ہاتھ میں ہے، جن کا کام مسلم آبادی میں فلاحی اسکیموں کے ذریعے پارٹی کی سیاسی رسائی بڑھانا ہے۔
اتر پردیش جیسے بڑے صوبوں میں، جہاں مسلمانوں کی آبادی خاصی ہے، پارٹی نے ریاستی سطح پر نمائندگی برقرار رکھی ہے۔ محسن رضا اور دانش آزاد انصاری جیسے رہنما وزیرِ مملکت برائے اقلیتی فلاح بنائے گئے ہیں۔
یہ حکمتِ عملی واضح طور پر پسماندہ (Pasmanda) مسلمانوں کو ہدف بناتی ہے، جو روایتی مسلم اشرافیہ سے دور رہے ہیں۔ شاید پارٹی کا نظریہ ہے کہ اگر سرکاری اسکیموں (جیسے مکان، اجولا گیس کنکشن) کے ذریعے اس طبقے میں معمولی ووٹ بھی حاصل کر لیے جائیں، تو کئی نشستوں پر نتائج بدل سکتے ہیں۔
نتیجہ: مسلم قیادت یا سیاسی ڈرامہ؟
بی جے پی میں مسلم قیادت کی پوری تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ایک سیاسی تماشہ ہے۔ یہ رہنما پارٹی کو عالمی سطح پر “شمولیت” کا لائسنس دیتے ہیں اور اندرونِ ملک اقلیتی ووٹوں میں نقب لگانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سکندر بخت و شاہنواز حسین کے بعد کسی بھی مسلم رہنما نے لوک سبھا کے بڑے انتخابی میدان میں کامیابی حاصل نہیں کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سیاسی طاقت اکثریتی ووٹوں پر مبنی نہیں ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف بی جے پی کے اندر مساوی نمائندگی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ملک کی دوسری سب سے بڑی برادری کو حقیقی سیاسی اختیار سے محروم رکھنے کی ایک افسوسناک تصویر بھی پیش کرتی ہے۔