پیر کے روز بہار اسمبلی میں پنچایت نمائندوں، بالخصوص مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا معاملہ زور و شور سے اٹھا۔ اپوزیشن نے اسے حکومت کی برسوں کی لاپروائی قرار دیا، جبکہ حکمراں جماعت نے اسے عوامی نمائندوں کی سلامتی سے جڑا ایک سنجیدہ مسئلہ بتاتے ہوئے الزامات کو مسترد کر دیا۔
راشٹریہ لوک مورچہ کے رکنِ اسمبلی آلوک سنگھ نے ایوان میں کہا کہ پنچایت سطح پر مکھیا کا کردار نہایت حساس ہوتا ہے۔ زمین کے تنازعات، سرکاری اسکیموں کے نفاذ اور مقامی اختلافات کے باعث مکھیا کو اکثر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت پہلے ہی مکھیا کو اسلحہ لائسنس دینے کا فیصلہ کر چکی تھی تو اب تک یہ عمل کیوں زیرِ التوا ہے۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ اسمبلی گوتم کرشنا نے حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اسلحہ لائسنس سے متعلق 60 دن کے اندر جائزے کی شق پہلے سے موجود ہے، مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو واقعی عوامی نمائندوں کی سلامتی کی فکر ہوتی تو اس مسئلے کو برسوں تک نظرانداز نہ کیا جاتا۔
وہیں جنتا دل (یونائیٹڈ) کے رکنِ اسمبلی بھیشم کشواہا نے اپوزیشن کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنچایت سطح کے عوامی نمائندوں کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس معاملے کو پنچایت انتخابات سے جوڑ کر دیکھنا مناسب نہیں۔ بی جے پی کے رکنِ اسمبلی کرشن کمار منٹو نے بھی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام طبقات کے عوامی نمائندوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ترقی کے ساتھ ساتھ سلامتی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
بحث کے دوران وزیرِ داخلہ سمراٹ چودھری نے کہا کہ سات دن کے اندر ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مکھیا کے اسلحہ لائسنس کی درخواست، پولیس ویریفکیشن اور سکیورٹی اسسمنٹ کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد صرف اہل اور ضرورت مند مکھیا کو ہی اسلحہ یا پستول کا لائسنس دیا جائے گا اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے پوری کارروائی کی نگرانی کی جائے گی۔
تاہم اپوزیشن کا الزام ہے کہ پنچایت انتخابات قریب ہونے کے باعث حکومت نے اب مکھیا کی سلامتی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کی حکومت طویل عرصے سے اقتدار میں ہے، مگر اب تک اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اسمبلی میں ہونے والی اس بحث کے بعد اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومتی ہدایات کے بعد اضلاع میں اسلحہ لائسنس کے عمل میں واقعی تیزی آتی ہے یا یہ معاملہ ایک بار پھر محض بیانات تک ہی محدود رہ جاتا ہے۔